حرفِ آخر
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
حرفِ آخر
اوپر ہم نے جو جائزہ پیش کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام اور اشتراکیت دو الگ الگ نظریے ہیں جو فکری اور عملی دونوں اعتبار سے باہم ٹکراتے ہیں۔ جو لوگ اسلامی تعلیمات سے ان دونوں کا اتحاد ثابت کرتے ہیں ان کے کام کی نوعیت دراصل یہ نہیں ہے کہ اسلام کے مطالعہ نے انہیں اس حقیقت تک پہنچایا ہے اور اب وہ اس کو اسلام کی صحیح تشریح کے طور پر پیش کر رہے ہیں بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرات سوشلزم سے متاثر ہیں یا باقاعدہ اس پر ایمان لا چکے ہیں۔ مگر کسی وجہ سے وہ یہ نہیں چاہتے کہ سوشلزم کو سوشلزم کے نام پر پیش کریں۔ وہ سوشلزم کو اسلام کے نام پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وہ ذہن ہے جس نے وہ تمام دلائل ایجاد کئے ہیں جن میں سے بعض کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ اس قسم کی ذہنیت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اسلامی تاریخ میں یہ بات بہت پہلے سے ہوتی چلی آ رہی ہے۔ جب دنیا میں شہنشاہی نظام رائج تھا اور بہت سے لوگوں کے مفادات اس سے وابستہ ہو گئے تھے تو انہوں نے بادشاہت کو عین اسلامی ثابت کرنے کے لیے ’’السلطان ظل اللہ‘‘ کی حدیث نبوی میں تحریف کی اور اس سے یہ مطلب نکالا کہ شاہی نظام خدا کا پسندیدہ نظام ہے۔ اس کے بعد جمہوریت کا زمانہ آیا تو ’’امرھم شوریٰ بینھم‘‘ سے اس کے حق میں دلیل فراہم کی گئی۔ نازیٹ کا عروج ہوا تو بہت سے لوگوں کو اسلام کا حکومتِ الہیہ کا تصور نازی ڈکٹیٹر شپ کے عین مشابہ نظر آنے لگا۔ اب سوشلزم کا دور ہے تو اس کے حق میں قرآن و سنت سے دلیلیں ڈھونڈھی جا رہی ہیں۔ کاش! یہ لوگ تاریخ سے سبق لیتے اور زمانہ کے مٹنے والے نقوش سے ہم آہنگ کرنے کے شوق میں اسلام کی ابدی تصویر کو بگاڑنے کی کوشش نہ کرتے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader