تیسرا استدلال
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے صحیح کیا۔ اور زمینوں کے متعلق میرا خیال ہے کہ ان کے کافر مالکوں کے ہاتھ میں انہیں رہنے دوں اور اس کے بدلے ان پر خراج عائد کروں اور ان کے اوپر جز یہ بھی ہے جس کو وہ ادا کریں گے اس طرح یہ مسلمانوں کی ایک مستقل آمدنی ہوگی۔ فوجیوں کے لیے اور ان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے لیے۔ حضرت عمرؓ کی تقریر کے بعد سب نے ان کی رائے سے اتفاق کیا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ فقالوا جميعاً الراى رأيك فنعم ماقلت وما رأيت (آپ کی رائے صحیح ہے جو کچھ آپ نے کہا ٹھیک کہا)۔ یہ ہے اصل واقعہ۔ اب غور کیجئے کہ کیا اس سے کسی بھی طرح سے اجتماعی کاشت اور سلب ملکیت کا سوشلسٹ اصول اخذ کیا جاسکتا ہے۔ اس واقعہ کا تمام تر تعلق اس بات سے ہے کہ مفتوحہ زمین کس کی ملکیت ہوتی ہے نہ یہ کہ افراد کی جائز ملکیتوں کو ان سے چھینا جاسکتا ہے یا نہیں۔ حضرت عمرؓ نے اپنی تقریر میں خود یہ فرما دیا ہے کہ مجھے کسی کی ملکیت چھینے کا حق نہیں ہے اگر میں ایسا کروں تو میں غلط کار ہوں گا۔ عراق کی زمینوں کے مسئلے کا اوپر ہم نے جو تجزیہ کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سوشلسٹ حضرات کا اس سے استدلال کرنا محض مغالطے پر مبنی ہے۔ اس سے نہ تو اجتماعی ملکیت کے حق میں دلیل ملتی ہے اور نہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ زمینوں کی اجتماعی تنظیم کی خاطر افراد کی ملکیتیں چھینی جاسکتی ہیں۔ اسلامی تاریخ سے اس نوعیت کی جتنی بھی مثالیں پیش کی جاتی ہیں، ان میں یہ زمینیں اس لیے نہیں لی گئی تھیں کہ ان کو لے کر سرکاری انتظام کے تحت ان میں اجتماعی کاشت کرائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں "اجتماعی ملکیت" کے نام نہاد تصور سے بالکل خالی ہے۔ اگر کوئی زمین کبھی لی گئی تو وہ ایک شخص سے لے کر دوسرے شخص کو دے دی گئی۔ ان زمینوں پر حکومت کا قبضہ خواہ جس نوعیت کا بھی ہو، مگر کاشت کے اعتبار سے وہ بعد کو بھی اسی طرح شخصی قبضے میں رہیں جس طرح وہ پہلے شخصی قبضے میں تھیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader