صبح کشمیر
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
کو پہچانے اور اس کو دانش مندانہ طور پر استعمال (avail) کرے۔ موجودہ زمانے میں بہت سے مقامات ہیں جہاں لوگ انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں ، مگر ان میں سے ہر ایک اپنا مطلوب انصاف پانے میں ناکام ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے ، اور وہ ہے طریق کار (method) کی غلطی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں ساری اہمیت طریق کار کی ہے۔ کوئی صحیح مقصد بھی غلط طریق کار کے ذریعے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اصول اتنا زیادہ عام ہے کہ اس میں اہل کشمیر یا کسی غیر اہل کشمیر کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔ کوئی گروہ جو انصاف کا طالب ہو ، اُس کو سب سے پہلے اپنے یہاں امن قائم کرنا چاہیے۔ امن کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اُس کو ہر حال میں قائم کرنا ضروری ہے ، خواہ اس کی کوئی بھی قیمت دینی پڑے۔ امن کبھی دو طرفہ بنیاد پر قائم نہیں ہوتا ، امن ہمیشہ یک طرفہ صبر کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ اس کے سوا ، امن کے قیام کا کوئی اور طریقہ نہیں۔ فطرت کا نظام ، مواقع (opportunities) پر مبنی ہے۔ فطرت کے نظام کے تحت ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مواقع وافر مقدار میں موجود رہتے ہیں۔ نفرت اور تشدد کا ماحول ان فطری مواقع کے لیے ٹریپ ڈور (trap door) کی حیثیت رکھتا ہے۔ فطرت کا تقاضا ہے کہ آدمی سب سے پہلے نفرت اور تشدد کے ٹریپ ڈور کو ہٹائے۔ اس ٹریپ ڈور کے ہٹتے ہی مواقع ایک سیلاب کی طرح اُمڈ پڑتے ہیں۔ یہ مواقع اپنی نوعیت کے اعتبار سے ، سیکولر بھی ہوتے ہیں اور دینی بھی۔ مواقع کا سیکولر استعمال یہ ہے کہ لوگ تعلیم اور اقتصادیات جیسے تعمیری شعبوں میں سرگرم ہو جائیں اور کھلے ہوۓ مواقع کو استعمال کر کے وہ ہر قسم کی ترقیاں حاصل کریں۔ مواقع کا دینی استعمال یہ ہے کہ اہل ایمان ان مواقع کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں ، وہ دعوت کے مشن میں سرگرم ہو کر اپنے آپ کو اعلیٰ خدائی انعامات کا مستحق بنائیں — اس معاملے میں اہل کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے۔ اُن کے لیے یہ عظیم موقع ہے کہ وہ اپنی ریاست میں امن قائم کریں اور لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچا کر ، خدا کے عظیم انعامات کے مستحق بنیں۔ کشمیر کا مستقبل 1947 کے بعد ریاست جموں و کشمیر ایک پرابلم اسٹیٹ (problem state) بن گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader