صبح کشمیر
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں اسلام کی تصویر (image) ایک متشددانہ مذہب کی بن گئی ہے۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں، اسلام کی یہی منفی تصویر ساری دنیا میں پھیل گئی۔ اب اکیسویں صدی میں آخری طور پر وہ وقت آ گیا ہے کہ اسلام کی پرامن تصویر دنیا کے سامنے آئے۔ میڈیا کے دور میں اِس مقصد کے لیے ایک بریکنگ نیوز (breaking news) درکار ہے۔ سپر بریکنگ نیوز ہی اکیسویں صدی میں، اسلام کو دوبارہ ایک پرامن مذہب کی صورت میں دنیا کے سامنے نمایاں کر سکتی ہے۔ غور کیا جائے تو آج کی دنیا میں کشمیر وہ واحد مقام ہے جہاں سے اِس بریکنگ نیوز کا آغاز ہو سکتا ہے۔ پچھلے برسوں میں کشمیر میں اسلام کے نام پر متشددانہ تحریک چلی، تاہم اِس کا ایک مثبت پہلو ہے۔ اِس کی وجہ سے یہ ہوا کہ میڈیا کے دور میں کشمیر عالمی نیوز میں آ گیا۔ اب اگر کشمیر میں پرامن اسلام کی دعوت ابھرے تو اچانک یہ ہوگا کہ کشمیر عالمی میڈیا کے لیے ایک بریکنگ نیوز بن جائے گا۔ کشمیر وہ مقام تعارف بن جائے گا جہاں سے دنیا کو اس واقعہ کی خبر ملے کہ اسلام امن کا مذہب ہے، وہ تشدد کا مذہب نہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ کشمیر کے لیے اس کریڈٹ کا ملنا مقدر ہو چکا ہے۔ آج اسلام کو ایک پرامن دھماکہ (peaceful explosion) کی ضرورت ہے۔ حالات بتاتے ہیں کہ غالباً کشمیر وہ مقام ہے جس کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ اکیسویں صدی میں اسلام کے اِس پرامن دھماکے کا مقام بنے۔ یہ بلاشبہہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کا تاریخ کو آج سب سے زیادہ انتظار ہے۔ امن کی اہمیت قرآن کی سورہ النساء میں ارشاد ہوا ہے: الصلح خیر (128: 4) یعنی صلح زیادہ بہتر ہے۔ صلح کیا ہے، صلح دراصل امن کے نتیجے کا دوسرا نام ہے۔ جہاں صلح ہے، وہاں امن ہے اور جہاں صلح نہیں، وہاں امن بھی نہیں۔ اِس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام میں امن کو خیر اعلیٰ کا درجہ حاصل ہے۔ عام طور پر لوگ انصاف (justice) کو بڑی چیز سمجھتے ہیں، مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ انصاف کی حیثیت صرف ایک تصوراتی معیار کی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تصوراتی معیار عملاً کس طرح حاصل ہو۔ اِس کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ امن کے ذریعے ۔ امن کا یہ فائدہ ہے کہ اس کے ذریعے مواقع کھلتے ہیں۔ انصاف کسی کو خود بخود نہیں ملتا۔ انصاف کسی گروہ کو صرف اُس وقت ملتا ہے، جب کہ وہ مواقع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader