عمر ضائع ہوگئی
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ شعر اس مفہوم میں درست نہیں کہ کشمیر خود جنت الفردوس کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ ایک اور معنی میں یہ شعر درست ہے، وہ یہ کہ کشمیر قدرت کی طرف سے مہیا کردہ ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) ہے۔ اس پوائنٹ آف ریفرنس کے حوالے سے کوئی شخص جنت کی پہچان کر سکتا ہے اور اس کے حوالے سے کوئی شخص اپنے آپ کو جنت میں داخلے کا مستحق بنا سکتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت کو جب جنت کی نعمتیں ملیں گی تو وہ کہیں گے کہ ایسا ہی رزق ہم کو دنیا میں ملا تھا، اور جنت کا رزق دنیا کے رزق کے متشابہ ہوگا: Whenever, they are given fruit to eat, they will say, ‘This is what we were provided with before’, they were given similar things.(2: 25) موجودہ دنیا اپنی تخلیق کے اعتبار سے، جنت کا تعارف ہے ( 6 :47۔ جنت کی دنیا ایک مکمل دنیا (perfect world) ہے، اور موجودہ دنیا جنت کی مانند ایک غیر مکمل دنیا (imperfect world) ۔ یہ بات پورے سیارہ ارض کے لیے درست ہے۔ تاہم، زمین کے بعض مقامات ایسے ہیں جہاں زمین کی یہ حیثیت بہت زیادہ نمایاں ہے۔ یہ زیادہ ممتاز طور پر جنت کی یاد دلانے والی ہے۔ انھیں مقامات میں سے ایک مقام بلاشبہ ریاست جموں وکشمیر ہے۔ کشمیر کو درست طور پر ’’کشمیر، جنت نظیر‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک آدمی جس کے اندر جنت کا شعور زندہ ہو، وہ جب کشمیر کے خوب صورت مناظر کو دیکھے گا تو وہ پکار اٹھے گا کہ ــــــــ خدایا، تو نے مجھے عارضی جنت کا منظر دکھا دیا، اب تو مجھے ابدی جنت میں داخل کردے۔ اس اعتبار سے، کشمیر بلاشبہ ایک عظیم پوائنٹ آف ریفرنس ہے۔ کشمیر کو دیکھ کر ایک باشعور انسان وہ دعا کر سکتا ہے جس کو حدیث میں، اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا کہا گیا ہے۔ مگر اس دعا کے لیے موافق ماحول ضروری ہے۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں کسی کے اندر یہ ربانی دعا بل نہیں سکتی۔ کشمیر میں نفرت اور تشدد کا کلچر چلانے کا مطلب یہ ہے کہ اہل کشمیر کو ایک عظیم نعمت سے محروم کر دیا جائے۔ نفرت اور تشدد کے ماحول میں لوگوں کی زبان سے صرف بد دعا نکلے گی، نہ کہ کوئی ربانی دعا۔ ایسے ماحول میں لوگوں کا دماغ منفی افکار کا جنگل بن جائے گا، جب کہ مذکورہ قسم کی اعلیٰ ربانی دعا کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کا دماغ مثبت افکار کا باغ بنا ہوا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader