صبح کشمیر
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کے مطابق، جنت کامل معنوں میں ایک امن کی جگہ ہے (25:10 - جنت گویا امن کلچر کا چنستان ہے۔ ایسی جنت میں تشدد پسند لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تشدد اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک نفسیاتی آگ ہے۔ جو لوگ دنیا کی زندگی میں آگ والی نفسیات کے ساتھ جئیں، اُن کے لیے شدید اندیشہ ہے کہ وہ آخرت میں بھی آگ کی دنیا میں ڈال دئے جائیں۔ قرآن کے مطابق، جنت کے باشندے کامل طور پر امن پسند ہوں گے (36 :66 - وہاں ہر انسان کے دل میں دوسرے انسان کے لیے صرف امن اور محبت کے جذبات ہوں گے۔ ایسی حالت میں جنت میں بسانے کے لیے صرف انھیں لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا جنھوں نے موت سے پہلے کی دنیا میں اس امن پسندانہ مزاج کا ثبوت دیا ہو۔ موجودہ دنیا ایک انتخاب گاہ (selection ground) ہے۔ موجودہ دنیا میں ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے جو کامل طور پر امن پسند ہوں اور جنت کے پرامن سماج میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہ وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جو اہل کشمیر کو بھی سوچنے کی دعوت دیتی ہے، اور اسی طرح دوسرے مقام کے لوگوں کو بھی۔ ناشکری کا کلچر تشدد (violence) کیا ہے، تشدد ناشکری کا کلچر ہے۔ شکایت سے تشدد پیدا ہوتا ہے اور تشدد آدمی کے اندر سے شکر کی نفسیات کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیتا ہے۔ ابلیس نے آغازِ حیات میں چینلج کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انسانوں کو شکر کے راستے سے ہٹا دوں گا اور بیش تر انسانوں کو میں شکر نہ کرنے والا بنا دوں گا: ولا تجد أكثر هم شاکرين (7:17)۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو تشدد کوئی سادہ بات نہیں۔ جس سماج میں تشدد کا کلچر ہو تو سمجھ لیجیے کہ وہاں کے لوگوں پر شیطان غالب آ گیا ہے۔ شیطان نے اُن کو بہکا کر، پہلے شکایت اور پھر تشدد کے راستے پر ڈال دیا ہے۔ تشدد ایک شیطانی کلچر ہے، اور تشدد جہنم کا دروازہ کھولنے والا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے جب انسان کو پیدا کیا تو ابلیس کو حکم دیا کہ وہ انسان کے آگے جھک جائے، مگر ابلیس، انسان کے آگے نہیں جھکا۔ ابلیس، جنات کا سردار تھا۔ ابلیس کو اُس وقت بھی اللہ تعالی کی دی ہوئی بہت سی چیزیں حاصل تھیں، مگر ایک چیز کے نہ ملنے پر وہ شکر کے راستے سے ہٹ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader