صبح کشمیر
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
اس واقعے میں ایسے تمام مسلمانوں کے لیے ایک سبق ہے جو کشمیر جیسی صورت حال سے دوچار ہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ ایسے مقامات کے مسلمانوں کی سیاسی پالیسی کیا ہونا چاہیے، وہ پالیسی یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو بے فائدہ ٹکراؤ سے بچائیں ، تا کہ وہ حاصل شدہ مواقع کو استعمال کر سکیں ۔ وہ ایسا نہ کریں کہ جو ملنے والا نہیں ہے ، اُس کو پانے کی کوشش میں وہ ملے ہوئے کو بھی برباد کر دیں ۔ دور تشدد کا خاتمہ دوسری عالمی جنگ ( 1939-1945) کے زمانے میں کئی ملکوں نے تشدد کا طریقہ اختیار کیا۔ مثلاً برطانیہ، جرمنی ، جاپان ، وغیرہ ۔ مگر جنگ کے خاتمے پر ان سب ملکوں نے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پرامن جدوجہد کا طریقہ اختیار کر لیا ۔ یہ واقعہ کوئی سادہ واقعہ نہ تھا۔ یہ دراصل اِس بات کا اعلان تھا کہ اب انسانی تاریخ اُس مرحلے میں پہنچی ہے، جب کہ تشدد کا دور ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے ۔ اب انسان کے لیے صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ پرامن طریق کار کا آپشن ہے ۔ کوئی بھی عمل نتیجہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ جو عمل مثبت نتیجہ نہ پیدا کرے ، وہ بلاشبہ اِس قابل ہے کہ اس کو چھوڑ دیا جائے ۔ دوسری جنگ عظیم میں یہی واقعہ پیش آیا ۔ جو قو میں اس جنگ میں شریک تھیں ، انھوں نے اس جنگ میں جان و مال کی بے شمار قربانیاں دیں ، مگر نتیجے کے اعتبار سے، یہ قربانیاں ہر ایک کے لیے لاحاصل ثابت ہوئیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دورِ جدید میں جو ہتھیار ایجاد کئۓ گئے ، وہ جنگ کے لیے مانع (deterrent) بن گئے ہیں، وہ جنگ کے لیے محرک (incentive) کی حیثیت نہیں رکھتے ۔ مثال کے طور پر جرمنی اور جاپان نے دوسری عالمی جنگ میں ، جنگ کا طریقہ اختیار کر کے بہت زیادہ نقصان اٹھایا تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد انھوں نے اپنی قومی جدوجہد کے لیے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا اور اس کے بجائے امن کا طریقہ اختیار کر لیا۔ اِس کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے زبردست کامیابی حاصل کی ۔ یہ کامیابی اس کے باوجود ہوئی کہ جرمنی نے اپنے ملک کا ایک حصہ مشرقی جرمنی (East Germany) کھو دیا تھا، اور جاپان اپنے ایک بڑے جزیرہ اوکی ناوا (Okinawa) سے محروم ہو گیا تھا۔ کشمیر اور دوسرے علاقے ، جہاں مسلمان تشدد کی تحریک چلا رہے ہیں ، اُنھیں ان واقعات سے سبق لینا چاہیے ۔ یہ واقعات محض کسی ملک کے واقعات نہیں ہیں ، وہ فطرت کے قانون کو بتاتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader