Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

اس شیطانی تزئین سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے، وہ یہ کہ اپنے عمل کا نتیجہ (result) کے اعتبار سے جانچا جائے۔ جو متشددانہ عمل تباہی کے انجام تک پہنچ رہا ہو، جس سے ملے ہوئے مواقع برباد ہوتے ہوں، اُس کے بارے میں یہ یقین کر لیا جائے کہ وہ شیطان کی تزئین کا نتیجہ ہے اور پھر توبہ واستغفار کر کے اُس سے دوری اختیار کر لی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد اپنے آپ میں ایک نا مطلوب فعل ہے۔ تشدد کبھی کوئی اصلاح پیدا نہیں کرتا، وہ صرف مزید نقصان کا سبب بنتا ہے۔ تشدد ایک حیوانی فعل ہے، وہ کوئی انسانی فعل نہیں۔ تشدد ہمیشہ نفرت اور عداوت سے پیدا ہوتا ہے۔ اپنے اندر سے نفرت اور عداوت کی سوچ کو ختم کر دیجئے ۔ اس کے بعد کبھی شیطان آپ کے اوپر قابو نہ پا سکے گا۔ تشدد جیسے فعل سے آپ کا مل طور پر محفوظ ہو جائیں گے۔ ملکہ سبا کا قصہ قرآن کی سورہ النمل میں ملکہ سبا کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ ملکہ سبا کا زمانہ حضرت سلیمان کا زمانہ (932 ق م) ہے۔ اس کی حکومت قدیم یمن کے ساحلی علاقے میں قائم تھی۔ حضرت سلیمان، شام وفلسطین کے حکمراں تھے۔ حضرت سلیمان نے ایک مکتوب ملکہ سبا کو لکھا کہ تم یا تو سرینڈر کرو، یا ہماری فوج کشی کا سامنا کرو۔ اس کے جواب میں ملکہ سبا نے سرینڈر کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کا سبب بتاتے ہوئے اُس نے کہا: ’’بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہ اس کو تباہ کر دیتے ہیں اور وہ اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں، اور یہی یہ لوگ کریں گے‘‘ (27:34)۔ ملکہ سبا کے اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب کسی ایسی صورت حال کا سامنا ہو جس میں ممکن انتخاب صرف دو چیزوں کے درمیان ہو ــ تباہی اور مصلحت، تو ایسی صورت حال میں، تباہی کے بجائے، مصلحت (adjustment) کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ اُس وقت یہی اسلام کا طریقہ ہوگا۔ ملکہ سبا نے معاملے کو خالص حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا۔ اس نے یہ رائے قائم کی کہ اگر ہم سلیمان کی طاقت سے ٹکرائیں تو زیادہ امکان یہ ہے کہ ہم ہاریں گے اور پھر ہمارے ساتھ وہی کیا جائے گا جو ہر غالب قوم، مغلوب قوم کے ساتھ کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اطاعت قبول کر لیں تو ہم تباہی سے بچ جائیں گے۔ اس طرح ہمارے تمام مفادات محفوظ رہیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page