Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

Say to the king and to the queen mother, "Humble yourselves[sit down, for your rule shall collapse, the crown of your glory." (Jeremiah 13: 18) یہاں یہود کی مثال کی صورت میں یہ بتایا گیا ہے کہ قوموں پر عروج کے بعد زوال آتا ہے، سیاسی بالادستی کے بعد انھیں سیاسی زیر دستی کا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ معاملہ قانونِ فطرت کے تحت پیش آتا ہے۔ اُس وقت قوم کو چاہیے کہ وہ اس تبدیلی کو تسلیم کرے۔ کیوں کہ اُس وقت اس تبدیلی کو تسلیم نہ کرنا اپنے آپ کو مزید تباہی کی طرف لے جانے کے ہم معنیٰ ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ سیاسی اقتدار (political power) کسی گروہ کی قومی اجارہ داری (monopoly) نہیں ۔ سیاسی اقتدار کا حصول اس کی ضروری اہلیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ قوم کے اندر جب تک صلاحیت پائی جائے، سیاسی اقتدار بھی اُس کو حاصل رہے گا۔ صلاحیت کے فقدان کے بعد سیاسی اقتدار بھی اس سے چھن جائے گا۔ جب ایسا ہو تو قوم کو چاہیے کہ وہ دوبارہ اپنے اندر ضروری صلاحیت پیدا کرے، نہ کہ وہ فریقِ ثانی کے خلاف بے فائدہ جنگ چھیڑ دے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ما بقوم میں تغير ہمیشہ ما بأنفس میں تغير کا نتیجہ ہوتا ہے (13:11)۔ ما بقوم سے مراد اجتماعی حالت ہے، اور ما بأنفس سے مراد انفرادی حالت۔ جب بھی کسی قوم کی اجتماعی سطح پر زوال آئے تو اس کو اپنے افراد کی سطح پر اس کا سبب ڈھونڈ ناچاہیے۔ کیوں کہ قوم کے افراد کی حالت کو بدلنے کے بعد ہی قوم کی اجتماعی حالت بدل سکتی ہے، اس کے بغیر ہر گز نہیں ۔ عمل کا آغاز افراد کی سطح سے ہوتا ہے، نہ کہ اجتماع کی سطح سے۔ اجتماع کی سطح پر جو آغاز ہوتا ہے، وہ صرف لیڈری ہے، نہ کہ کوئی حقیقی عمل۔ کشمیریت کی طرف واپسی کشمیریت کیا ہے، کشمیریت دراصل صوفیت کا دوسرا نام ہے۔ کشمیری کلچر کا مطلب ہے، صوفی کلچر۔ کشمیر شاید پوری دنیا میں واحد مقام ہے جہاں اسلام صرف صوفیوں کے ذریعے آیا اور صوفیوں کے ذریعے پھیلا۔ اس لیے کشمیر میں کشمیریت کو قائم کرنا، دراصل صوفیت کو قائم کرنا ہے۔ صوفیت اور روحانیت دونوں ہم معنیٰ الفاظ ہیں۔ صوفیت تمام تر امن اور محبت سے عبارت ہے۔ صوفیت اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ امن اور محبت کے کلچر کا دوسرا نام ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page