Urdu book · صبح کشمیر

کشمریت کی طرف واپسی

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

صوفی کلچر کیا ہے، خود صوفیوں کی زبان میں، وہ صلحِ کل (peace with all) کا نام ہے۔ یہی صوفی کلچر، مسلم اور مسلم کے درمیان بھی مطلوب ہے، اور مسلم اور غیر مسلم کے درمیان بھی۔ کشمیر کے لوگ پچھلے سیکڑوں سال سے اسی صوفی کلچر پر قائم تھے۔ وہاں کا پورا ماحول امن اور محبت اور سماجی ہم آہنگی کے اصول پر مبنی تھا۔ کشمیر کے لوگ نفرت اور تشدد سے بالکل نا آشنا تھے۔ کچھ بیرونی عناصر نے کشمیر کے لوگوں کو بہکا کر اُن کو اس کشمیری کلچر سے ہٹا دیا۔ نفرت اور تشدد کے کلچر نے کشمیریوں کو کوئی مثبت چیز نہ دی، البتہ اس کا نقصان یہ ہوا کہ کشمیریوں سے اُن کا سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ چھن گیا، اور وہ یہی صوفیانہ کلچر تھا جو ہمیشہ سے کشمیر کی علامت بنا ہوا تھا، یعنی امن اور محبت کا کلچر۔ یہ کشمیر کی خوش قسمتی تھی کہ پچھلے چند سو سالوں میں یہاں باہر سے جو مسلم صوفی آئے، یا مقامی طور پر جو صوفی پیدا ہوئے، وہ سب کے سب امن اور محبت کا پیغام دینے والے تھے۔ اس کے نتیجے میں کشمیر میں زبردست انقلاب آیا۔ کشمیر میں اسلام کو غیر معمولی طور پر فروغ حاصل ہوا۔ مثال کے طور پر شیخ نور الدین نورانی (وفات: 1439ء) شمیر کے صوفیوں میں سے ایک صوفی تھے۔ کشمیر کے لوگوں میں عام طور پر وہ "علم دار کشمیر" کے نام سے مشہور تھے۔ ہندو لوگ انھیں پیار سے "نند رشی" کہتے تھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ شیخ نور الدین نورانی سچی کشمیریت کی علامت تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ــــ اگر تو دانش مند ہے تو ہندو اور مسلمان کو الگ الگ انسان نہ سمجھ، یہی خدا سے ملنے کا راستہ ہے۔ وہ شاعر بھی تھے۔ چناں چہ ان کا کلام کشمیر کے ایک شاعر نے 'رشی نامہ' کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ نور الدین نورانی کے نزدیک انسان کی ایک ہی پہچان تھی، وہ یہ کہ انسان انسان سے محبت کرے۔ ان کے نزدیک انسان سے محبت ہی خدا کی پہچان کا راستہ ہے۔ شیخ نور الدین نورانی کے قیمتی اقوال میں سے ایک قول کا مفہوم یہ ہے کہ ــــ میں نے تلوار توڑ دی اور اُس سے درانتی بنالی۔ یہ قول شیخ نورانی کے فکر کا خلاصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے لوہا بنایا جس میں خصوصی طاقت ہے، مگر لوہا اس لیے نہیں ہے کہ آپ اس کو تشدد کے لیے استعمال کریں، بلکہ آپ کو چاہیے کہ لوہا ہے کو تعمیر انسانیت کے لیے استعمال کریں۔ آپ لوہے سے تلوار کے بجائے درانتی بنائیں جو زراعت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page