Urdu book · صبح کشمیر

کشمریت کی طرف واپسی

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

کے کام آتی ہے۔ لیکن اکتوبر 1989 سے کشمیر میں ایسے لوگ ابھرے جو برعکس اصول پر یقین رکھتے تھے۔ انھوں نے برعکس طور پر یہ کیا کہ اپنی ’’درانتی‘‘ کو توڑ کر اُس سے ’’تلوار‘‘ بنالی۔ انھوں نے جہاد کے نام پر پوری ریاست میں نفرت اور تشدد پھیلا دیا۔ جہاں تک راقم الحروف کا تعلق ہے، میں پہلے دن سے نام نہاد کشمیری تحریک کو بے اصل سمجھتا رہا ہوں۔ میرا کہنا یہ رہا ہے کہ اس طرح کے واقعات تاریخ کے ذریعے ظہور میں آتے ہیں، نہ کہ موجودہ قسم کی تحریک کے ذریعے ۔ میرا ماننا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ انڈیا کی آزادی کے وقت ہی ہو چکا ہے۔ اب نہ اُس کو باقاعدہ جنگ کے ذریعے بدلا جا سکتا ہے اور نہ گوریلا وار کے ذریعے ۔ اس قسم کی ہر کوشش مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اُس کو مزید دہرانا، صرف اپنے نقصان میں اضافے کے ہم معنیٰ ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ انڈیا ہر اعتبار سے پاکستان سے بہت زیادہ ترقی کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں کشمیر کے لیے بہترین چوائس انڈیا ہے، نہ کہ پاکستان۔ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کے ساتھ جڑنا، ایک ترقی یافتہ ملک کے ساتھ جڑنا ہے۔ اور پاکستان کے ساتھ جڑنا، ایک ایسے ملک کے ساتھ جڑنا ہے جو ابھی تک ترقی کی طرف اپنا سفر بھی شروع نہ کر سکا۔ 1989 میں ملٹنسی (militancy) شروع ہونے سے پہلے، کشمیر کو وہاں کی زبان میں، ’’پیر وار‘‘ (صوفیوں کی سرزمین) کہا جاتا تھا۔ کشمیر کے ایک مسلمان نے بڑے درد کے ساتھ کہا کہ پہلے کشمیریوں کا حال یہ تھا کہ وہ مرغی کو بھی ذبح کرنا نہیں جانتے تھے، مگر 1989 کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ وہ انسان کو ذبح کرنے لگے۔ بلبل شاہ اور شاہ ہمدان جیسے صوفیوں نے کشمیر میں جو کلچر رائج کیا، وہ مکمل طور پر امن کلچر تھا۔ کشمیری لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے تشدد سے بالکل ناواقف تھے۔ کشمیریوں کے اس امن پسندانہ مزاج کو بتانے کے لیے ایک صوفی کا یہ شعر بالکل درست تھا: ما قصۂ سکندر و دارا، نہ خواندہ ایم از ما بجز حکایت مهر و وفا مپرس ! مگر انسان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ اگر اس کو بھڑکایا جائے تو وہ بھڑک اٹھتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر کشمیر میں یہی بھڑکانے کا کام کیا، مگر یہ وقتی تھا— واقعات بتاتے ہیں کہ کشمیر کے لوگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page