صبح کشمیر
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
کے خلاف ہوتی ہے، مگر یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ منفی سوچ کا نقصان خود منفی سوچ والوں کو ہوتا ہے، نہ کہ اُن لوگوں کو جن کے خلاف منفی انداز میں سوچا جا رہا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور اس قانون میں کبھی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ منفی ذہنیت (negative mentality) کا مطلب ہے، گھیٹو ذہنیت (ghetto mentality)۔ اس طرزِ فکر کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ دوسروں سے کٹ جاتے ہیں۔ وہ علیحدگی پسندی کے خول میں جینے لگتے ہیں۔ اس طرح دوسروں کے ساتھ اُن کا انٹریشن (interaction) ہو جاتا ہے۔ اس گھیٹو آئیڈیالوجی کا بھیا تک نتیجہ پس ماندگی اور پچھڑے پن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ زندگی کا راز علیحدگی پسندی میں نہیں ہے، بلکہ انٹریشن میں ہے۔ زندگی کا راز لوگوں سے قریب ہونے میں ہے، لوگوں سے دور ہونے میں نہیں ہے۔ زندگی کا راز دوسروں کا خیر خواہ بننے میں ہے، دوسروں سے نفرت کرنے میں نہیں ہے۔ زندگی کا راز مثبت طرزِ فکر میں ہے، منفی طرزِ فکر صرف ہلاکت کا ذریعہ ہے، نہ کہ تعمیر وترقی کا ذریعہ۔ تاریخ کے فیصلے کو بدلنا کعبہ کو تقریباً چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بنایا تھا۔ اُس وقت کعبہ مستطیل (rectangle) صورت میں تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے قریش مکہ نے کعبہ کی نئی تعمیر کی۔ اُس وقت انھوں نے کعبہ کی لمبائی کو کم کر کے اس کو مربع (square) صورت میں تعمیر کیا۔ کعبہ اس مربع صورت میں آج تک موجود ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اہلیہ عائشہ سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ کعبہ کی عمارت کو دوبارہ میں ابراہیمی بنیاد پر بناؤں، مگر آپ اس سے باز رہے، کیوں کہ عملی اسباب کے تحت اب ایسا کرنا زیادہ بڑی برائی (greater evil) کا سبب بنتا ہے۔ (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 1583) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس واقعے سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ تاریخ کے پہیے کو دوبارہ الٹی طرف نہیں چلایا جا سکتا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader