Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس پیغمبرانہ واقعے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ تاریخ کا سفر ہمیشہ ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی طرف ہوتا ہے۔ تاریخ میں یوٹرن (U turn) لینا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ تاریخ کے سفر کو مستقبل سے حال کی طرف اور حال سے ماضی کی طرف جاری کردے۔ تاریخ کے معاملے میں موجود صورت حال (statusquo) کو مان کر منصوبہ بنایا جاتا ہے، نہ کہ اس کا انکار کرکے۔ کعبہ کی تاریخ اس معاملے کی ایک مثال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کے اس قانون کو تسلیم کرتے ہوئے سابق ابراہیمی بنیاد پر کعبہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش نہیں کی۔ بعد کو عبد اللہ بن زبیر (وفات: 692ء) کا زمانہ آیا تو انھوں نے کعبہ کی عمارت کو توڑ کر اس کو دوبارہ ابراہیمی بنیاد پر بنایا، لیکن عبد اللہ بن زبیر کی وفات کے فوراً بعد حجاج بن یوسف الثقفی (وفات: 714ء) نے اس کو توڑ دیا اور دوبارہ کعبہ کو اس کی سابق بنیاد پر تعمیر کر دیا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس سنت رسول سے مکمل طور پر بے خبر ہیں۔ اس لیے وہ بار بار اس سنت رسول کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ صرف اپنی تباہی میں مزید اضافہ کر لیتے ہیں۔ بیسویں صدی کے ربع اول میں خلافت تحریک، بیسویں صدی کے نصف ثانی میں فلسطینی تحریک، بیسویں صدی کے نصف آخر میں کشمیری تحریک اور اس قسم کی دوسری تحریکیں اسی کا ثبوت ہیں۔ ان تحریکوں کے لیڈروں نے تاریخ کے فیصلے کو بدلنے کی کوشش کی، مگر تاریخ کا فیصلہ نہیں بدلا، البتہ نادانی کی اس سیاست نے مسلمانوں کی تباہی میں مزید اضافہ کر دیا۔ وہ لمحہ جب کہ تاریخ کا فیصلہ ہورہا ہو، اُس وقت آپ اپنی دانش مندانہ پالیسی کے ذریعے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن جب فیصلہ ہو گیا تو اُس کے فیصلے کو بدلنے کی کوشش کرنا عملاً خودکشی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ناممکن کی سیاست موجودہ زمانے کے مسلم رہنما ہر جگہ سیاست کے ہنگامے جاری کئے ہوئے ہیں۔ جہاں بھی کچھ مسلمان ہیں، وہاں اس کی مثال دیکھی جاسکتی ہے۔ مگر یہ تمام سیاسی ہنگامے مکمل طور پر بے نتیجہ ثابت ہو رہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page