خدا میں جینا
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا میں جینا موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا کیس ایک لفظ میں یہ ہے کہ وہ خدا میں جینے والے بنے، وہ غیر خدا میں جی رہے ہیں۔ یہی واحد سبب ہے جس نے تمام مسلمانوں کو منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں منفی سوچ اتنی زیادہ عام ہے کہ مشکل ہی سے اس میں کسی عورت یا مرد کا استثناء نظر آئے گا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا لکھنا اور بولنا، سب کا سب ان کی منفی سوچ کا اظہار ہے۔ منفی سوچ کا سبب کیا ہے۔ منفی سوچ دراصل شکایت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ہر مسلمان کسی نہ کسی کے خلاف شکایت کا جذبہ لئے ہوئے ہے، فلاں نے زمین پر قبضہ کر لیا، فلاں نے اپنی فوجیں مسلم ملک میں اتار دیں، فلاں نے اسلام کی بے حرمتی کردی، فلاں نے ہم کو انصاف نہیں دیا، فلاں ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے، وغیرہ۔ آج کل ہر مسلمان اس قسم کی شکایتوں میں جیتا ہے۔ انھیں شکایتوں نے ہر مسلمان کو منفی سوچ میں مبتلا کر دیا ہے۔ مگر منفی سوچ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ منفی سوچ کا مطلب دراصل یہ ہے کہ انسان نے کسی اور چیز کو وہ اہمیت دے دی جو اہمیت اُسے خدا کو دینا چاہئے: Making one's concern something else other than God. خدا کو پانا سب سے بڑی چیز کو پانا ہے۔ جس آدمی کو خدا کی دریافت ہو جائے، اس کی سوچ اتنی زیادہ بلند ہو جاتی ہے کہ ہر دوسری چیز اس کی نظر میں حقیر بن جاتی ہے۔ کسی چیز کا کھونا یا پانا دونوں اس کی نظر میں یکساں ہو جاتے ہیں۔ وہ اس نفسیات میں جینے لگتا ہے کہ۔ تم جو چیز چاہو، مجھ سے چھین لو، لیکن تم خدا کو مجھ سے نہیں چھین سکتے: You can take away from me whatever you want, but you cannot take God away from me! یہ نفسیات ایک مومن کو انتہائی حد تک مثبت سوچ والا انسان بنا دیتی ہے۔ کسی کے خلاف نفرت یا مایوسی کا ایک ذرہ بھی اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔ وقت ضائع نہ کیجئے انسان دنیا میں کس لیے آیا ہے ۔ وہ اس لیے نہیں آیا ہے کہ یہاں وہ اپنی پسند کی حکومت قائم کرے۔ وہ یہاں صرف اس لیے آیا ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو خالق کی پسند کے مطابق بنائے۔ انسان کو موجودہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader