Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں صرف چند سال کی عمر ملی ہے۔ چند سال کی اس مدت میں کوئی دوسرا کام کرنا، اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے ضائع کر لینا ہے۔ صحیح استعمال صرف وہ ہے جو موت کے بعد کام آئے۔ موت کے بعد صرف وہ انسان کامیاب قرار دیا جائے گا جس نے موت سے پہلے کی زندگی میں اپنے آپ کو خالق کی پسند کے مطابق بنایا ہو۔ خالق کی پسند کیا ہے، کشمیر جیسا علاقہ اس کا ایک زندہ نمونہ ہے۔ کشمیر کی وادیوں میں جاری چشمے خالق کی پسند کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہاں کے ہرے بھرے درخت اپنی خاموش زبان میں خالق کی پسند کو بتا رہے ہیں، یہاں کی فضاؤں میں اڑتے ہوئے پرندے خالق کی پسند کا چرچا کر رہے ہیں، یہاں کے خوب صورت پہاڑوں میں خالق کی پسند کا نغمہ گونج رہا ہے۔ یہاں کی مسحور کن فضاؤں میں ہر طرف خالق کی پسند کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ کشمیر گویا فطرت کی زبان میں خالق کا کلام ہے۔ کشمیر کے ماحول میں انسان خالق کے پڑوس کا تجربہ کرتا ہے۔ کشمیر کی سرزمین میں پیدا ہونے والے ہر انسان کا پہلا فرض ہے کہ وہ خالق کی اس زندہ کتاب کو پڑھے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی تشکیل کرے۔ جو لوگ یہ کام نہ کریں، اُن کے لیے موت کے بعد صرف یہ انجام سامنے آئے گا کہ وہ ابد تک حسرت میں جیتے رہیں ۔ اُن کے حصے میں صرف یہ مایوسانہ سوچ آئے کہ اُن کا کیسا صرف مواقع کے استعمال سے محرومی کا کیس تھا: Mine was a case of missed opportunities. دنیا میں کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ آدمی یہاں اپنی شخصیت کو جنتی شخصیت بنائے، تا کہ آخرت میں اس کو اللہ کی ابدی جنت میں داخلہ ملے۔ موجودہ دنیا جنت کی تعمیر کی جگہ نہیں ہے، بلکہ وہ جنتی شخصیت کی تعمیر کی جگہ ہے۔ اس دنیا میں جنتی شخصیت کی تعمیر ہی وہ کام ہے جس کے لیے انسان کو عمل کرنا چاہیے: لمثل هذا، فليعمل العاملون (61: 37) پتھر سے قرآن تک ایک کشمیری مسلمان نے کہا کہ اکتوبر 1989 سے اکتوبر 2011 تک ہم نے ایک لمبا راستہ طے کیا ہے۔ پہلے ہم آرمی کے اوپر پتھر مارتے تھے، اب ہم آرمی کے سامنے قرآن پیش کرتے ہیں۔ ایک کشمیری مسلمان کے یہ الفاظ کشمیر میں آنے والے نئے دور انقلاب کو بتا رہے ہیں، وہ کشمیر میں ایک نئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page