Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 67

By Maulana Wahiduddin Khan

دیا ۔ یہ بیان پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دونوں میں عمومی طور پر رپورٹ کیا گیا۔ اس بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ ''کشمیر کے لیے پاکستان اب مزید جنگ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے کشمیر کے لیے ہم نے انڈیا سے چار مرتبہ (1999, 1971, 1965, 1948) جنگ کی ہے، لیکن اس جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ کشمیر کا مسئلہ صرف بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔‘‘ وزیر اعظم پاکستان کا یہ بیان ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کے ہم معنی ہے۔ جنگ کرنا پاکستان کی پہلی غلطی تھی۔ دوسری غلطی یہ ہے کہ باہمی تعلقات کو آخری حد تک بگاڑ کر بات چیت کی پیش کش کی جائے۔ جنگ کسی سادہ واقعے کا نام نہیں۔ جنگ انتہائی قسم کا وہ منفی اقدام ہے جس کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ فریق ثانی کے اندر نفرت اور دوری کے جذبات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ جو علاقہ پہلے صرف ایک جغرافی علاقے کی حیثیت رکھتا تھا، وہ اب اُس کے لیے وقار کا سوال (prestige issue) بن جاتا ہے، اور جب جنگ کا انجام یک طرفہ شکست کی صورت میں نکلے تو اس کے بعد فاتح فریق کے اندر اپنے موقف کی صداقت پر یقین بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ماضی کی ناکام لڑائیوں کے یہ نتائج اب پوری طرح واقع ہو چکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ سے پہلے جو معتدل فضا پائی جاتی تھی، وہ اب پوری طرح برباد ہو چکی ہے۔ ایسی حالت میں یہ امکان ختم ہو چکا ہے کہ میز کی بات چیت (negotiation) کا کوئی مفید نتیجہ برآمد ہو۔ بات چیت کے لیے معتدل فضا لازمی طور پر ضروری ہے، جب کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ معتدل فضا موجود ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب خود اپنی نادانیوں کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بات چیت کا انتخاب سرے سے باقی نہیں رہا۔ اب پاکستان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ کشمیر کو فراموشی کے خانے میں ڈال دے۔ وہ کشمیر کے بغیر پاکستان کی تعمیر کی منصوبہ بندی کرے، وہ مله ہوئے کی بنیاد پر پاکستان کی ترقی کی عمارت کھڑی کرے ۔ پاکستان کے لیے یہی واحد دانش مندی کا طریقہ ہے۔ شاہ ہمدان مشن (Revival of Shah Hamadan's Mission) میر سید علی ہمدانی (وفات: 1384 ء) کو ریاست جموں و کشمیر میں ’’معمار کشمیر‘‘ کا درجہ حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page