Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مشن کو سخت مزاحمت کا سامنا پیش آیا۔ حالات کے تقاضے کے تحت 622 عیسوی میں آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مکہ کے برعکس، مدینہ میں آپ کو نہایت موافق حالات ملے۔ مدینہ میں کسی رکاوٹ کے بغیر اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔ مدینہ میں ایسا کیوں ہوا، اس کا جواب حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ملتا ہے: کان يوم بعث یوما تقد مہ اللہ لرسولہ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3777) یعنی جنگ بُعث، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے لیے ایک خدائی رحمت کی حیثیت رکھتی تھی: The battle of Bu'ath was a blessing in disguise for the مدینہ (یثرب) میں دو بڑے قبیلے تھے - وس اور خزرج ۔ قبائلی مزاج کے مطابق، ان دونوں کے درمیان اکثر ٹکراؤ ہوتا رہتا تھا۔ ہجرت کے پانچ سال پہلے دونوں قبیلوں کے درمیان ایک خون ریز جنگ ہوئی ۔ اس جنگ کو جنگِ بُعث" کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے افراد بڑی تعداد میں مارے گئے ۔ اس کے بعد اہل یثرب کے اندر سکنڈ تھاٹ (second thought) پیدا ہوا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ سمجھنے لگے کہ انھیں باعزت زندگی حاصل کرنے کے لیے تشدد پر مبنی آئیالوجی کے بجائے، امن پر مبنی آئیالوجی درکار ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کہ اسلام کی دعوت مدینہ پہنچی اور وہ تیزی سے لوگوں کے دلوں میں داخل ہوگئی۔ تقریباً یہی صورت حال ریاست جموں وکشمیر میں پیش آئی ہے۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد اس ریاست میں جلسوں اور مظاہروں کی صورت میں جہادِ کشمیر شروع ہوا۔ ایک عرصے کے بعد اس تحریک نے تشدد کی صورت اختیار کرلی۔ ایک طرف، کشمیری مجاہدین تھے اور دوسری طرف، انڈین آرمی ۔ یہ ایک نامساوی تصادم تھا۔ چناں چہ فطری طور پر ایسا ہوا کہ کشمیر کے لوگ بڑی تعداد میں مارے گئے۔ مسلح تصادم کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے، اُس نے کشمیر کو ہر پہلو سے شدید نقصان پہنچایا۔ تعلیم اور سیاحت اور اقتصادیات اور دوسرے سماجی ادارے ناقابل تلافی حد تک تباہ ہوگئے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر اہل کشمیر کا ضمیر جاگ اٹھا۔ اُن کے اندر بڑے پیمانے پر نظرثانی (rethinking) کا عمل جاری ہوگیا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ اب اہل کشمیر نے مسلح ٹکراؤ کو چھوڑ دیا، اور انھوں نے پرامن دعوت کا طریقہ اختیار کر لیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page