Urdu book · صبح کشمیر

صبح کشمیر

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

آج صورت حال یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر میں قدیم طرز کی ملٹنسی (militancy) تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ اب اہل کشمیر، ون مین ٹو مشن (one man, two mission) کا کلچر اختیار کر رہے ہیں۔ ایک طرف، وہ تعلیم اور تجارت جیسے شعبوں میں اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں، اور دوسری طرف، وہ پرامن دعوت کو اپنا دینی فرض سمجھ کر دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں۔ پیغمبرانہ ماڈل حضرت یوسف ایک اسرائیلی پیغمبر تھے۔ اُن کا زمانہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ وہ کنعان (فلسطین) میں پیدا ہوئے، پھر مخصوص حالات کے تحت وہ مصر پہنچے۔ یہاں اُس وقت ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ حضرت یوسف کے اس قصے کو قرآن میں احسن القصص (best story) کہا گیا ہے۔ اِسی طرح، حضرت محمد ایک اسماعیلی پیغمبر تھے۔ ان کا زمانہ تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ آپ کے زمانے میں ایک مشہور واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کو اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اس واقعے کو فتح مبین (48: 1 ) کہا گیا ہے ۔ یہ دونوں واقعات دو پیغمبروں کے نمونے ہیں۔ ان دونوں واقعات سے مشترک طور پر معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی جدوجہد کا کامیاب فارمولا کیا ہے۔ وہ فارمولا یہ ہے[ل]سیاسی معاملے میں یک طرفہ صلح، اور دعوت کے میدان میں پرامن جد و جہد: Political statusquoism, Dawah activism حضرت یوسف کے زمانے میں مصر میں ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ بادشاہ نے حضرت یوسف کو یہ پیش کش کی کہ وہ بادشاہ کے اقتدار کو تسلیم کرتے ہوئے ملک کے انتظام (administration) کا عہدہ قبول کر لیں۔ قرآن میں اس کے لیے دین ملک (12:76) کے الفاظ آئے ہیں، اور بائبل میں اس کی بابت یہ الفاظ ہیں: سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی ۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے، میں بزرگ تر ہوں گا: You shall be over my house, and all my people shall be ruled according to your word[only in regard to the throne, will I be greater than you.(Genesis, 41: 40)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page