آخرت
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
آخرت آخرت میں آدمی کو جو بدلہ دیا جائے گا وہ دنیا میں اس کے عمل ہی کا اخروی پہلو ہوگا۔ اس لئے عمل اور بدلہ دونوں ایک دوسرے کے انتہائی مطابق ہوں گے۔ ایک شخص سونا جمع کئے ہوئے ہے اور اللہ کا حصہ اللہ کے راستہ میں نہیں دیتا تو وہ سونا گویا آگ کا انگارہ ہے موت کے بعد یہ سونا آگ کی صورت اختیار کر کے آدمی کے ساتھ چپک جائے گا (تو بہ) حدیث میں اس قسم کی بہت سی مثالیں دی گئی ہیں کہ آدمی کا عمل اور اس کے اخروی نتائج کس طرح ایک دوسرے کے مطابق ہوں گے۔ معراج کے سفر سے متعلق جو روایات ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آسمانی سفر میں آپ کو جو چیزیں دکھائی گئیں ان میں وہ عالم مثال بھی تھا جہاں انسان کے دنیوی اعمال اپنی اخروی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ایک طرف آپ کو اچھے اعمال کی اخروی صورتیں دکھائی گئیں۔ مثلاً ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھیتی کاٹ رہے ہیں۔ وہ جتنی کھیتی کاٹتے ہیں اتنی ہی ان کی کھیتی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتہ سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ ہیں۔ اسی طرح آپ کو تفصیل کے ساتھ برے اعمال کی اخروی صورتیں بھی دکھائی گئیں۔ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے سر پتھروں سے کچلے جا رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی سرگرانی ان کو نماز کے لئے اٹھنے نہ دیتی تھی۔ اسی طرح آپ نے کچھ لوگ دیکھے جن کے کپڑوں میں بہت سے پیوند لگے ہوئے تھے اور وہ جانوروں کی طرح گھاس چر رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرتے تھے۔ پھر آپ نے ایک شخص کو دیکھا۔ وہ لکڑیوں کا گٹھا جمع کر کے اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اور جب وہ گٹھا اس سے نہیں اٹھتا تو وہ اس میں کچھ اور لکڑیاں بڑھا لیتا ہے۔ آپ نے پوچھا یہ کون ہے۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ شخص ہے جس پر ذمہ داریوں اور امانتوں کا اتنا بوجھ تھا کہ وہ اٹھا سکتا تھا مگر ذمہ دارہ ان کو کم کرنے کے بجائے اور زیادہ ذمہ داریوں کا بوجھ اپنے اوپر ڈال لیتا تھا۔ پھر آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کی زبانیں اور ہونٹ قینچیوں سے کاٹے جا رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ مقرر ہیں جو بے رودک ٹوک زبان چلاتے تھے اور غیر ذمہ دارانہ باتیں کہہ کر فتنہ برپا کرتے تھے۔ ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ ایک پتھر میں چھوٹا سا سوراخ ہوا اور اس میں سے ایک بڑا سا بیل نکل آیا۔ اس کے بعد وہ بیل دوبارہ اسی سوراخ میں جانے کی کوشش کرنے لگا مگر کوشش کے بعد جو وہ دوبارہ اس کے اندر نہ جاسکا۔ آپ نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ اس آدمی کی مثال ہے جو بے پروائی کے ساتھ ایک فتنہ کی بات کہہ دیتا ہے۔ اس کے بعد اس کے برے نتائج دیکھ کر اس کو واپس لینا چاہتا ہے گردابس نہیں مل سکتا۔ اسی طرح ایک جگہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جو خود اپنے جسم کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دوسرے بھائیوں پر طعن و طنز کرتے تھے۔ کچھ در لوگوں کو آپ نے دیکھا ۔ ان کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اس سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے پیچھے ان کی برائیاں کرتے تھے اور ان کی عزت و آبرو پر حملے کرتے تھے۔ کچھ لوگوں کو آپ نے دیکھا۔ ان کے ہونٹ اورٹوں سے ملتے جلتے تھے اور وہ آگ کھا رہے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتہ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال دنیا میں کھاتے تھے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں جن کے پیٹ بہت بڑے ہیں اور وہ سانپوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ آنے جانے والے ان کو روندتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader