آخرت
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوئے گزر جاتے ہیں مردہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے۔ آپ نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ فرشتے نے بتایا کہ یہ سود کھانے والے لوگ ہیں۔ پھر کچھ لوگ دکھائی دئے جن کے ایک جانب اچھا گوشت رکھا ہوا تھا اور دوسری جانب سڑا ہوا گوشت جس سے سخت بدبو آ رہی تھی ۔ وہ اچھے گوشت کو چھوڑ کر سڑا ہوا گوشت کھا رہے تھے ۔ آپ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں فرشتے نے بتایا کہ یہ وہ مرد اور عورتیں ہیں جنھوں نے جائز بیویوں اور شوہروں کو چھوڑ کر حرام سے اپنی خواہش پوری کی۔ جنت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ قرآن میں جنت کو عطر متشابہ کہا گیا ہے، یعنی ایسا انعام جو آدمی کے عمل سے ملتا جلتا ہو: ارشاد ہوا ہے کہ جنت میں جب کوئی پھل انھیں کھانے کے لئے دیا جائے گا تو اہل جنت کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے ہم کو دنیا میں دئے گئے تھے اور ان کو دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے پھل دئے جائیں گے (بقرہ ۲۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے انعامات دنیا کے عمل کے عین مطابق و معاش ہوں گے۔ دنیا میں کسی بندہ خدا کو جس عمل کی توفیق ملی ہوگی اسی سے ملتا جلتا بدلہ جنت میں اس کے حصہ میں آئے گا۔ دنیا میں آدمی کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کسی صورت حال میں کس قسم کا جواب دیتا ہے۔ پتھر کے ساتھ کوئی صورت حال پیش آئے تو وہ اس کے جواب میں کوئی رویہ پیش نہیں کرتا۔ مگر انسان ایک احساس اور شعور رکھنے والی مخلوق ہے۔ انسان کے ساتھ جب کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو وہ اس کے اندر ہلچل پیدا کرتی ہے۔ وہ اس کے جواب میں اپنے ہاتھ یا زبان سے کوئی رد عمل ظاہر کرتا ہے۔ اسی میں آدمی کا اصل امتحان ہے۔ ہر ایسے موقع پر خدا یہ دیکھتا ہے کہ آدمی نے اپنے فکر و عمل کی آزادی کو کس رخ پر استعمال کیا۔ اس نے گالی کے جواب میں گالی دی یا گالی کے جواب میں اس کی زبان سے دعائیں نکلیں۔ ہر صورت حال جو دنیا میں آدمی کے ساتھ پیش آتی ہے اس کے جواب کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جہنمی جواب، دوسرا جنتی جواب۔ جہنمی جواب وہ ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق نہیں ہے اور جنتی جواب وہ ہے جو اللہ کی مرضی کے مطابق ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک جواب وہ ہے جو شیطانی اخلاقیات کے مطابق ہو، ایسے لوگ جہنم کے مستحق قرار پائیں گے۔ دوسرا جواب وہ ہے جو خدائی اخلاقیات کے مطابق ہو، ایسے لوگ جنت کے لطیف ماحول میں بسائے جائیں گے۔ شیطانی اخلاقیات یہ ہے کہ جب کوئی ناخوش گوار صورت حال پیش آئے تو آدمی بے خوف ہو کر جوابی کارروائی کرنے لگے۔ وہ نفرت کا جواب نفرت سے دے اور غصہ کے مقابلہ میں غصہ کا تحفہ پیش کرے۔ اس کے برعکس خدائی اخلاقیات یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے۔ وہ وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر سوچے اور نفرت اور محبت کی نفسیات سے بلند ہو کر معاملہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے میرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں، جو مجھ کو محروم کرے میں اس کو دوں، جو مجھ پر ظلم کرے میں اس کو معاف کر دوں (وان اصل من قطعني واعطني من حرمني واعفو من ظلمنی اس طرح کے مختلف احکام ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن سے مطلوب ہے کہ وہ لوگوں کے سلوک سے بالاتر ہو کر ان کے ساتھ معاملہ کرے۔ وہ منفی نفسیات کے مواقع پر مثبت نفسیات ظاہر کرے۔ لوگوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ناخوش گوار واقعات پیش آتے ہیں اور آدمی کے اندر مخالفانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مومن کو یہ کرنا ہے کہ مخالفانہ جذبات کو اندر ہی اندر دبائے اور تلخی کے با وجود دوسروں کے ساتھ بہتر جذبات کے ساتھ پیش آئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader