انفاق
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کیا ہے۔ یہ اللہ کے لیے سفر کرنا ہے۔ اپنا وقت اور مال خرچ کر کے ان مقامات پر پہنچنا ہے جن سے اللہ اور اس کے پیچھے بندوں کی یادگاریں وابستہ ہیں۔ حج کے تمام مراسم اس بات کا ایک عملی اظہار ہیں کہ آدمی اللہ کے لیے دوڑ رہا ہے۔ اس نے اپنی زندگی اللہ کے گرد گھما رکھی ہے۔ وہ اللہ کے دوستوں کا دوست اور اللہ کے دشمنوں کا دشمن ہے۔ میدان حشر میں اللہ کے سامنے کھڑے ہونے کی حالت کو آج ہی اس نے اپنے اوپر طاری کر لیا ہے۔ وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ اللہ کی یاد کرنے والا ہے۔ وہ اسلام کو تحریک عالمی حقیقت بنانے اور اس کو بین الاقوامی سطح پر رواج دینے کے لیے بے قرار ہے۔ حج بظاہر ایک عبادت ہے مگر دراصل وہ ایک آدمی کی پوری مومنانہ زندگی کی تصویر اور آخری سانس تک کے لیے ایک اقرار نامہ ہے۔ آدمی اس لیے جیتا ہے کہ وہ خدا کے لیے حج کرے اور اس لیے حج کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کے لیے جئے ۔ حج اس کی موت کی تعبیر بھی ہے اور اس کی زندگی کی بھی۔ حج گویا حق تعالیٰ کی زیارت ہے۔ وہ دنیا کی زندگی میں اپنے رب سے قریب ہونے کی انتہائی شکل ہے۔ دوسری عبادتیں اگر اللہ کی یاد ہیں تو حج خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے۔ کعبہ کے سامنے کھڑا ہو کر آدمی محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ خود رب کعبہ کے سامنے کھڑا ہوا ہے۔ طواف اس حقیقت کا مظہر ہے کہ بندہ اپنے رب کو پا کر پروانہ وار اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ جب وہ ملتزم کو پکڑ کر دعا کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے گویا اسے اپنے آقا کا دامن ہاتھ آ گیا ہے جس سے وہ بیٹایا نہ لپٹ گیا ہے اور اپنی ساری بات اس سے کہہ دینا چاہتا ہے۔ حج کی یہ خصوصیت اس لیے ہے کہ اس کے ادا کرنے کی جگہ ایک ایسا مقام ہے جہاں تجلیات الہی کا نزول ہوتا ہے۔ جس کو خدا پرستانہ زندگی کے عظیم داعی سید نا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے دعوت و عمل کا مرکز بنایا تھا۔ جہاں اسلام کی پوری تاریخ ثبت ہے، جس کے ہر طرف اس مثالی اسلامی قافلہ کے نشانات پھیلے ہوئے ہیں جو خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں چھٹی صدی عیسوی میں ظہور میں آیا تھا۔ جہاں خدا کے دین کو پہلی بار ایک تاریخی واقعہ بنایا گیا۔ ان چیزوں نے حرم کے پورے علاقہ کو ایک خصوصی اہمیت دے دی ہے۔ وہاں اسلام کے حق میں ایک خاص طرح کا تاریخی اور نفسیاتی ماحول بن گیا ہے، جو شخص بھی وہاں جاتا ہے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا، وہ خدا کے رزق سے ایک ایسا حصہ لے کر لوٹتا ہے جو اس کی بقیہ پوری زندگی میں اس کی دینی توانائی کا ذریعہ بنا رہے۔ حج کو اسلامی عبادات میں ہمیشہ ایک غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ ایک حدیث میں اس کو افضل عبادت کہا گیا ہے۔ وہ تمام عبادات کا مجموعہ ہے اور تمام عبادات میں زندگی پیدا کرتا ہے۔ تاہم اس کی جو کچھ اہمیت ہے وہ اس کی حقیقی روح کے اعتبار سے ہے نہ کہ محض ظاہری رسوم و آداب کے اعتبار سے۔ دوسرے لفظوں میں حج صرف اس کا نام نہیں ہے کہ آدمی دیار حرم میں جائے اور کچھ مخصوص مراسم دہر اکر واپس لوٹ آئے، بلکہ حج ان کیفیات کے حصول کا نام ہے جن کے لیے یہ فریضہ مقرر کیا گیا ہے۔ کھانا بلا شبہ آدمی کو طاقت دیتا ہے۔ مگر کھانا اسی شخص کے لیے طاقت ہے جو اس کو قاعدہ کے مطابق اپنے پیٹ میں ڈالے۔ اگر کوئی شخص اس کو محض دیکھے یا اپنے سر پر لٹ لے تو اس کے لیے انتہائی قیمتی غذا بھی بالکل بے فائدہ ثابت ہوگی۔ اسی طرح حج کا حقیقی فائدہ بھی اس شخص کو ملے گا جو حج کو اس طرح کرے جیسا کہ اس کو کرنا چاہئے ۔ حج کی حقیقت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader