انفاق
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
الحج اشہر معلومات - فمن فرض فیهن الحج فلا رففت حج کے مہینے معلوم ہیں۔ جو شخص ان میں حج کو اپنا پُر مقرر کرے ولا فسوق ولا جدال فی الحج - وما تفعلوا من خیر تو حج میں نہ فحاشی ہے، نہ بے حکمی اور نہ جھگڑا۔ اور تم جو بھلائی یعلمہ اللہ - وتزودوا فان خیر الزاد التقویٰ کرو گے، اللہ اس کو جان لے گا۔ اور زادراہ لے لیکر وہ سب سے (بقرہ ۱۹۷) بہتر زادراہ تقویٰ ہے۔ اے عقل والو مجھ سے ڈرو۔ واتقون یا اولی الالباب رفت کے معنی ہیں فحش کلامی کرنا۔ فسق کا لفظ تقریباً اسی مفہوم میں آتا ہے جس کے لئے اردو میں کہتے ہیں: ”اس نے انسانیت کا جامہ اتار پھینکا“، جدال کے معنی ہیں ایک دوسرے سے جھگڑا کرنا۔ یہ تینوں الفاظ اس برائی کے لئے استعمال ہوتے ہیں جو عام طور پر زبان سے سرزد ہوتی ہے۔ جب مختلف لوگ اکٹھا ہوتے ہیں تو کوئی ہوس پرست آدمی فحش باتیں کر کے سنجیدہ ماحول کو بگاڑ دیتا ہے۔ کبھی کوئی عام عادت کے خلاف بات پیش آتی ہے اور آدمی اپناظاہری لبادہ اتار کر ناحق باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے کبھی کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے اور آدمی برداشت نہ کرتے ہوئے اس سے جھگڑنے لگتا ہے۔ حج کا اجتماع اسی قسم کی تمام برائیوں سے بچنے کی ایک تربیت ہے۔ ایک ایسا مقام جس سے تقدس اور احترام کی یادیں وابستہ ہیں، وہاں لے جاکر آدمی کو خصوصی طور پر اس کی مشق کرائی جاتی ہے کہ وہ اجتماعی ماحول میں رہتے ہوئے ان برائیوں سے بچنے کی کوشش کرے۔ وہ اپنے آپ کو فحوش اور سطحی دلچسپیوں سے ہٹا کر سنجیدہ چیزوں کی طرف راغب کرے۔ اس کے اندر ہر حال میں حق وصلاح پر قائم رہنے کا مزاج پیدا ہو۔ اجتماعی زندگی میں ناخوش گوار تجربات پیش آنے یا دل کو ٹھیس لگنے کے باوجود وہ اپنے بھائی سے لڑنے کے لئے نہ کھڑا ہو جائے۔ جب بھی چند آدمی کہیں جمع ہوتے ہیں یا مل کر رہے ہیں تو ایک کو دوسرے سے کوئی نہ کوئی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی صورت حال حج میں بہت بڑے پیمانہ پر پیش آتی ہے۔ کیوں کہ حج کے موقع پر مختلف قسم کے لوگ بہت بڑی تعداد میں ایک مقام پر اکٹھا ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حج کے دوران بار بار ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اب اگر لوگ ذاتی شکایتوں کی بنا پر ایک دوسرے سے لڑنے لگیں تو عبادت کی فضا ختم ہو جائے اور حج کا مقصد حاصل نہ ہو سکے۔ اس لئے حج کے زمانہ میں جھگڑنے اور غصہ کرنے کو مطلق حرام قرار دے دیا گیا۔ اس طرح حج کو ایک بہت بڑی چیز کے لئے تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ کیوں کہ لڑائی جھگڑا جس طرح حج کو باطل کر دیتا ہے اسی طرح وہ ایک مسلمان کی عام زندگی کو بھی اسلام سے دور کر دیتا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی ظاہری چیز کو تقویٰ کی علامت سمجھ لیتا ہے اور اس کو اختیار کر کے سمجھتا ہے کہ اس نے متقیانہ زندگی حاصل کر لی۔ حالانکہ اصل حقیقت کے اعتبار سے اس کا دل تقویٰ سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں نے یہ سمجھا کہ حج کے سفر میں زادراہ نہ رکھنا تقویٰ کی علامت ہے۔ وہ اس کا خوب اہتمام کرنے لگے۔ مگر زادراہ کا تعلق ضرورت سے ہے نہ کہ تقویٰ سے۔ اس قسم کی چیزوں میں آدمی کو اپنی ضرورت کے اعتبار سے تیاری کرنا چاہئے ۔ مگر تقویٰ اس سے بالکل الگ چیز ہے۔ اس کا تعلق دل سے ہے۔ اللہ کے یہاں کوئی شخص محض اس لئے مقبول نہیں ہو جاتا کہ اس نے خواہ مخواہ زادراہ کے بغیر سفر کیا اور اپنے جسم کو غیر ضروری مشقت میں ڈالا۔ اللہ کو دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔ حج کے سفر کو تقویٰ کا زادراہ فراہم کرنے کا ذریعہ ہونا چاہئے، کیونکہ یہی وہ زادراہ ہے جو آخرت کے سفر میں آدمی کے کام آئے گا ۔ حج کے مسافر اور اسی طرح زندگی کے سفر کے لئے بہترین عقلمندی یہ ہے کہ وہ شہوانی باتوں سے بچے ، وہ اللہ کی ناپسندیدہ حرکتوں اور لڑائی جھگڑے کی چیزوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader