Urdu book · تعارف اسلام

اسلامی معاشرہ

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

يُسْلِمُهُ، مَن كَانَ فِي حَاجَةِ اَخِيهِ كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَن نَفَرَّجَ عَن مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِّن كُرَبِ يَومَ القِيَامَةِ، وَمَن سَتَرَ مُسْلِمَا سَتَرَهُ اللهُ يَومَ القِيَامَةِ (متفق عليه) عَن عِيَاضِ بنِ حِمَارِ رَضِیَ اللهُ عَنْهَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : إِنَّ اللهَ تَعَالَى أَوْحَى إِلَى أَن تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ (مسلم) عَنِ ابی مُوسٰی رَضِیَ اللهُ عَنْهَ قَالَ، قَالَ، رَسُولُ اللهِ صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضاً وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ (متفق عليه) حاجت پوری کرے گا تو اللہ اس کی حاجت پوری کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف دور کرے گا تو اللہ قیامت کے دن اس کی تکلیف دور کرے گا۔ جو شخص کسی مسلمان کو ڈھانکے گا تو اللہ قیامت کے دن اس کو ڈھانکے گا۔ اللہ نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو۔ کوئی شخص کسی کے اوپر زیادتی نہ کرے۔ کوئی شخص کسی کے اوپر فخر نہ کرے۔ ایک مومن کی مثال دوسرے مومن کے لئے ایسی ہے جیسے عمارت۔ عمارت کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے اسی طرح سب مسلمان باہم جڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی روشنی میں اسلامی سماج کی جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان دوسرے مسلمانوں کے درمیان اس طرح رہتا ہے کہ وہ ان کو غیر نہیں سمجھتا بلکہ اپناہی ایک حصہ سمجھتا ہے ۔ دوسروں کے کسی رویہ سے جب اس کو خوشی محسوس ہوتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ دوسرے کس بات سے خوش ہوں گے۔ اس لئے وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنے لگتا ہے۔ اسی طرح جب کسی ایک کا رویہ اس کے لئے تکلیف کا باعث ہوتا ہے تو اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ دوسرے کس چیز سے تکلیف محسوس کریں گے اور وہ اس کا سخت اہتمام کرتا ہے کہ دوسروں کو اس کی ذات سے اس قسم کے سلوک کا تجربہ نہ ہونے پائے۔ حتیٰ کہ ایک مسلم آبادی ایک واحد جسم کی مانند ہو جاتی ہے۔ جسم کے ایک حصہ میں تکلیف ہو تو نا ممکن ہے کہ بقیہ جسم اس کے لئے تڑپ نہ اٹھے۔ اسی طرح ایک مسلمان کی تکلیف سارے مسلمانوں کی تکلیف بن جاتی ہے اور لوگوں کو اس وقت تک چین نہیں آتا جب تک وہ اپنے بھائی کی تکلیف دور نہ کر دیں۔ مسلمان کا سماج ایک ایسا سماج ہے کہ جب بھی ایک شخص کا دوسرے سے واسطہ پڑتا ہے تو وہ اس کے اندر محبت اور رحم دلی اور مہربانی پاتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کی حاجت برآری کے لئے اس طرح تیار رہتا ہے جیسے کہ وہ اس کا اپنا مسئلہ ہو۔ کوئی دوسرے مسلمان کو ننگا یا بے گھر دیکھتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خود ننگا اور بے گھر ہو گیا ہو کسی کو برداشت نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے بھائی کو بے سہارا چھوڑ دے۔ ایک کو دوسرے سے ظلم اور گھمنڈ کے بجائے تواضع اور انصاف ملتا ہے۔ کوئی کسی کے اوپر فخر نہیں کرتا، کوئی کسی کے اوپر حسد نہیں کرتا۔ بلکہ ہر ایک دوسرے کا خیر خواہ ہوتا ہے ، ہر ایک دوسرے کا ساتھی بن جاتا ہے۔ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح رہتے ہیں کہ ان کے لئے نا قابل تصور ہوتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے خون کو اپنے لئے جائز کر لیں خواہ اس سے کتنی ہی زیادہ تکلیف ان کو پہنچی ہو۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا مال لے لینے سے اسی طرح بچتا ہے جیسے کوئی شخص آگ کو ہاتھ میں لینے سے بچتا ہے۔ ایک مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی آبرو پر حملہ کرتا اسی طرح نا ممکن ہو جاتا ہے جیسے اپنے آپ کو بر سر بازار ننگا کرنا۔ اسلامی سماج میں اس قسم کی فضا کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک حد درجہ متحد سماج بن جاتا ہے جس سماج میں ہر ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page