Urdu book · تعارف اسلام

اسلامی معاشرہ

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی معاشرہ سماج کیا ہے۔ بہت سے آدمیوں کا مل جل کر رہنا۔ جب بہت سے آدمی مل کر ایک ساتھ رہیں تو ان کے درمیان طرح طرح کے تعلقات قائم ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کا رشتہ دار ہوتا ہے کوئی کسی کا پڑوسی۔ کوئی کسی کا ہم قوم ہوتا ہے کوئی کسی کا ہم وطن۔ کوئی تاجر ہوتا ہے اور کوئی گاہک۔ کوئی مالک مکان ہوتا ہے اور کوئی کرایہ دار۔ اس طرح کے مختلف تعلقات کی بنا پر لوگوں کے درمیار بار بار معاملات پیش آتے ہیں۔ ان معاملات کے دوران کبھی کسی سے نفرت کے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں اور کسی سے محبت کے کسی سے کچھ لینا ہوتا ہے اور کسی کو کچھ دینا کسی سے اختلاف ہوتا ہے اور کسی سے اتفاق ۔ کوئی اپنا پن جاتا ہے اور کوئی غیر دکھائی دیتا ہے یہی چیز ہے جو لوگوں کے درمیان سماجی تعلقات پیدا کرتی ہے اور یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا کیا جائے اور کیا نہ کیا جائے۔ بہت سے پتھر ایک ساتھ پڑے ہوں تو ان میں باہمی تعلقات قائم نہیں ہوتے، اس لئے ان کے درمیان مذکورہ قسم کے مسائل بھی پیدا نہیں ہوتے مگر جب بہت سے انسان ایک ساتھ مل کر رہیں تو ان میں باہمی تعلقات قائم ہوتے ہیں اور اس بنا پر ان کے درمیان طرح طرح کے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے مواقع پر اسلام کی تعلیم کیا ہے۔ مسلمان جب ایک سماج کی صورت میں مل کر رہیں تو وہ آپس میں کس طرح رہیں اور معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ کس قسم کا سلوک کریں اس کی وضاحت کے لئے چند حدیثیں ملاحظہ فرمائیں۔ عن انس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا یہ حال لا يؤمن احدكم حتی يحب لاخيه ما يحب لنفسه نہ ہو جائے کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو وہ (متفق علیہ) ۸۲ خود اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی تین چیزیں حرام ہیں صلی اللہ علیہ وسلم : کل المسلم علی المسلم حرام اس کا خون ، اس کا مال اور اس کی آبرو دمه وماله وعرضه (مسلم) ۸۲ عن عبد اللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ عن النبی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے صلی اللہ علیہ وسلم قال : المسلم من سلم المسلمون مسلمان محفوظ ہوں من لسانه ويدہ (متفق علیہ) عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ مسلمانوں کی مثال آپس کی محبت اور آپس کی رحم دلی اور آپس صلی اللہ علیہ وسلم : مثل المؤمنين في توادهم وتراحمهم کی مہربانی کے معاملہ میں ایسی ہے جیسے ایک جسم ۔ جب جسم کے کسی وتعا فتهم مثل الجسد اذا اشتكى منه عضو تداعى عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم مل کر جاگتا ہے اور سارا له سائر الجسد بالسّهر والحمى (متفق علیہ) جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ عن ابن عمر رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا علیہ وسلم قال : المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا اور نہ اس کو بے یار و مددگار چھوڑتا۔ جو شخص اپنے بھائی کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page