تنظیم
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
تنظیم قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان میں بارہ نقیب مقر کئے اور اللہ نے ان سے کہا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور میرے رسولوں کو مانو اور ان کی مدد کرو اور اللہ کو قرض حسن دو، اگر تم ایسا کرو تو یقیناً میں تمھاری برائیوں کو تم سے دور کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پس اس کے بعد تم میں سے جس نے انکار کیا تو اس نے سوا السبیل کھودی (مائدہ ۱۲) ایک دانے کے اندر خدا نے ایک سرسبز و شاداب پودا چھپا رکھا ہے اور ایک گٹھلی کے اندر ایک پورا درخت موجود ہے۔ مگر یہ امکانات صرف اس وقت بروئے کار آتے ہیں جب کہ دانہ یا گٹھلی مٹی میں ڈالا جائے۔ اگر ان کو شیشہ کی میز پر سجا کر رکھ دیا جائے تو نہ دانے سے پودا نکلے گا اور نہ گٹھلی کبھی درخت کی صورت اختیار کرے گی۔ اسی طرح اللہ نے دنیا کی ہر چیز کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ قاعدہ ہمیشہ کے لئے اٹل ہے۔ ہر چیز اسی مقررہ قاعدہ پر قائم ہوتی ہے اور اسی کے مطابق بڑھتی ہے۔ اگر اس قاعدہ کی خلاف ورزی کی جائے تو کبھی مطلوبہ نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ جو قوم آسمانی کتاب کی حامل ہو اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا مخصوص ضابطہ ہے۔ ایسی قوم کس طرح زمین میں جڑ پکڑتی ہے اور دنیا و آخرت میں فلاح حاصل کرتی ہے، اس کا ضابطہ مذکورہ آیت میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس قرآنی ضابطہ کو یہاں صراط السبیل کہا گیا ہے۔ صراط السبیل (اللہ تک پہنچنے کا سیدھا راستہ) یہ ہے کہ آدمی دنیا میں ایک قسم کی پابند زندگی گزارے۔ وہ اس طرح رہے گویا کہ وہ خدا کے عہد کی رسی میں بندھا ہوا ہے۔ اس عہد کی زندگی کی پہلی شرط، ایمان کے بعد، یہ ہے کہ آدمی نماز قائم کرے یعنی اللہ کے آگے اپنے کو جھکا دے، وہ اللہ کی قربت تلاش کرنے والا بن جائے۔ پھر وہ زکوٰۃ ادا کرے۔ یعنی وہ دوسرے بندوں کا اس حد تک خیر خواہ ہو کہ اپنی کمائی میں ان کا لازمی حق سمجھنے لگے۔ پھر یہ کہ اللہ کے دین کی دعوت کے معاملہ میں وہ غیر جانب دار نہ رہے، بلکہ اس میں اپنے آپ کو پوری طرح شامل کرے، وہ داعیان دین کی مدد کرے۔ اپنے بہترین اثاثہ کو اس کام کو مؤثر اور طاقت ور بنانے میں لگا دے۔ یہی وہ عہد کی زندگی ہے جو ہر فرد مسلم سے مطلوب ہے، اس زندگی کو اختیار کئے بغیر کوئی شخص خدا کی قربت و معیت حاصل نہیں کر سکتا اور نہ اس قابل قرار پا سکتا کہ خدا اس کی مدد کرے۔ اس خدا پرستانہ زندگی کو اس کی صحیح صورت میں باقی رکھنے کے لئے تنظیم کا حکم دیا گیا ہے۔ ہر مسلم معاشرہ کے اوپر خدا کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے درمیان سمع و طاعت کا نظام قائم کرے۔ یعنی وہ اپنے اندر سے کچھ لوگوں کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader