Urdu book · تعارف اسلام

تنظیم

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنا سربراہ مقرر کرے اور جب ان کا تقرر ہو جائے تو پسند ناپسند کو نظر انداز کر کے ان کی اطاعت کرے۔ نماز کی باقاعدہ اقامت، زکوۃ کی اجتماعی وصولی اور تقسیم، دعوت دین کا عمومی نظام، سب اسی وقت بہتر طور پر ادا ہو سکتے ہیں جب کہ مسلمانوں کے درمیان اجتماعی نظم قائم ہو، ان میں کچھ ایسے لوگ مقرر ہوں جو اس کی نگرانی کریں اور تمام لوگ اس کو ایک دینی فریضہ سمجھ کر اپنے سربراہوں کی اطاعت کریں۔ اس تنظیم سے مراد حکومتی تنظیم نہیں ہے۔ بلکہ وہ تنظیم ہے جو ہر حال میں مسلمانوں کے اپنے بس میں ہے، خواہ ان کے پاس سیاسی اقتدار ہو یا نہ ہو۔ اسلامی تنظیم حقیقتاً ایک عبادت ہے اور عبادت وہی مطلوب اور نتیجہ خیز ہے جو اختیاری طور پر نہ ہو نہ کہ کسی خارجی دبائو کے تحت۔ اسلامی تنظیم در اصل اس بات کی ایک دنیوی علامت ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو خدا کے حکم کے حوالے کر دیا ہے۔ اسلامی تنظیم میں اپنے کو باندھنا گویا خدائی اطاعت کے امتحان میں پورا اترنا ہے اور اسلامی تنظیم میں بندھنے کے لئے تیار نہ ہونا گویا اس خدائی امتحان میں ناکام ہو جانا ہے۔ مزید یہ کہ سیاسی اقتدار بذات خود تنظیم کے وجود کا ضامن نہیں ہے۔ حضرت عثمان رض اور حضرت علی رض کے زمانہ میں حکومتی اقتدار موجود تھا، اس کے باوجود مسلمانوں کی تنظیم منتشر ہو گئی۔ اسی طرح بعد کے دور میں بھی اس کی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تنظیم سے مراد ویسی ہی ایک اختیاری تنظیم ہے جیسی کہ مسجد میں امام کی سربراہی میں نماز کی جماعت بندی کے لئے ہر روز ہوتی ہے۔ یہ اللہ کی خاطر اپنی آزادی پر پابندی لگانا ہے۔ یہ تمام تر ایک اختیاری تنظیم ہے اور اس کا ثواب کسی آدمی کو صرف اس وقت ملے گا جب کہ اس نے اپنے آزاد ارادہ سے اس کی مانتی قبول کی ہو۔ جبر کے تحت قائم شدہ تنظیم محض دنیوی فائدے دے سکتی ہے مگر وہ آدمی کو خدا کے یہاں ثواب کا مستحق نہیں بناتی، نہ اس سے وہ برکتیں ظاہر ہو سکتیں جو حقیقی اسلامی تنظیم کے لئے خدا نے مقدر کی ہیں۔ دور نبوت میں اس قسم کی تنظیم کی ایک مثال وہ ہے جو ابتدائی دور میں مدینہ میں اختیار کی گئی۔ ہجرت سے پہلے مدینہ کے ۳۷ آدمی پہنچے اور آپ سے بیعت ہوئے۔ اس وقت مدینہ میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی۔ مگر آپ نے بیعت کے بعد ان سے کہا کہ تم لوگ بارہ آدمی منتخب کرو جن کو میں تمھارے اوپر نقیب (نگراں) بنادوں۔ چنانچہ انھوں نے اپنے اندر سے بارہ آدمی چنے۔ آپ نے ان کو مدینہ کے مسلمانوں پر نگراں مقرر فرمایا اور کہا کہ تم اپنی قوم کی اجتماعی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہو (انتم کفلاء علی قومکم) مسلمان عرب سے نکل کر جب مختلف ملکوں میں گئے تو اسی طرح وہ اپنی تنظیم بنا کر اس کی ماتحتی میں منظم زندگی گزارتے رہے۔ جب تک انھوں نے ایسا کیا ان کے اوپر خدا کا سایہ باقی رہا۔ جب انھوں نے تنظیمی پابندی قبول کرنے سے انکار کر دیا تو خدا کا سایہ بھی ان کے اوپر سے اٹھ گیا اور وہ دوسری قوموں کے حوالے کئے گئے۔ جو لوگ اپنے آزاد ارادہ سے اپنے کو ایک اسلامی تنظیم کا پابند کریں وہ اس بات کا ثبوت دیتے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page