دعوت
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
انتہائی اور مکمل شکل میں کسی انسان کے لئے ناقابلِ مشاہدہ ہے مگر اس کے باوجود اس کی کچھ جھلکیاں مختلف شکلوں میں لوگوں کے سامنے آتی رہتی ہیں اور دیکھنے اور سننے والوں کو متاثر کرتی ہیں۔ جب اس کو یہ احساس ستاتا ہے کہ پچھلی غفلت کی زندگی میں اس نے فلاں شخص کے ساتھ ایک ایسی زیادتی کی تھی جو اس کے لئے آخرت میں بازپرس کا سبب بن سکتی ہے اور وہ اس کے سامنے معافی مانگنے کے لئے حاضر ہوتا ہے تو اس کے کپکپاتے ہوئے ہونٹ سننے والے کو بھی ہلا دیتے ہیں اور غلطی کا اظہار کرتے وقت نکل پڑنے والے آنسو کتنے سیاہ اور غبار آلود دلوں کو دھو کر صاف کر دیتے ہیں۔ جب وہ غلط طریقے سے حاصل کئے ہوئے ایک مال کو اس اندیشے کی بنا پر واپس کرنے جاتا ہے کہ آخرت میں اس کے اصل مالک کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ اس کے بدلے غاصب کا سارا عمل لے لے اور اسے بالکل خالی چھوڑ دے، تو وہ ایک شخص کو صرف اس کا مال ہی نہیں لوٹاتا، بلکہ اسی کے ساتھ اس کو ایمان کی وہ دولت بھی واپس دلاتا ہے جو غفلت میں شیطان اس سے اچک گیا تھا۔ جب ایک واقعی نمازی سجدے میں ہمہ تن پڑا ہوا خدا سے اس طرح سرگوشی کر رہا ہوتا ہے کہ بقیہ دنیا کی اسے خبر ہی نہیں ہوتی، عین اس وقت اس کی اس ہیبت و فنائیت کو دیکھ کر کسی بندہ خدا کا دل اندر ہی اندر اپنے رب کے آگے جھک جاتا ہے ۔ وہ بے اختیار چاہنے لگتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح اپنے خدا کو پا کر اس سے لپٹ جائے۔ جب زندگی کے عملی معاملات میں لوگوں کو اس سے سابقہ پیش آتا ہے اور لوگ اس کی سچائی، پاکیزگی، دیانت داری اور ایفائے عہد کا تجربہ کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بالکل مجبور پاتے ہیں کہ اس دین کی قدر کریں جس کے اندر یہ طاقت ہے کہ ایسے عمدہ انسان تیار کرے، حتیٰ کہ کتنے غیر مسلموں کو اس طرح کے تجربات سے اسلام کی توفیق ملتی ہے اور کتنی غافل روحوں کو دوبارہ اسلام کا شعور نصیب ہوتا ہے۔ دو پتھر باہم ملیں تو کوئی خاص بات نہیں ہوگی۔ لیکن بجلی کا ایک تار جب دوسرے تار سے مس کرتا ہے تو فوراً سادہ تار میں برقی رو دوڑنے لگتی ہے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ ایک اچھے انسان کی خصوصیات دوسرے انسان کے لئے برقی رو کی حیثیت رکھتی ہیں، انسان کے اندر فطری طور پر یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اچھی چیز سے اثر قبول کرتا ہے اور خدا پرستی کی چیزیں اس کے دل کی آواز بن کر اس کی نفسیات میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ جب ایک شخص کوئی عمدہ عمل کرتا ہے یا اس کی زندگی سے خدا پرستی کا کوئی نور چھین کر لوگوں کے سامنے آجاتا ہے تو اس وقت دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان اس طرح اس کو قبول کرتے ہیں جیسے بجلی کے تار سے کوئی دوسرا تار برقی رو قبول کرتا ہے۔ اس وقت فطرت کے ایک آن دیکھے تار پر ایک ڈاٹ کے جذبات دوسری طرف منتقل ہونے لگتے ہیں، ایک کی ہلچل دوسرے کو لرزہ براندام کر دیتی ہے، ایک کی روشنی سے دوسرے کا باطن چمکنے لگتا ہے۔ یہ ایک بالکل فطری عمل ہے جو لازمی طور پر اس وقت وجود میں آتا ہے جب کسی کے اندر ایمان و اسلام کا شعلہ بھڑکے اور اس کے گرد و پیش ایسے لوگ موجود ہوں جن کی نوبت مسخ نہ ہوگئی ہو اور انسانی اور صاف ابھی باقی ہوں ۔ ۲۔ دوسری چیز وہ ہے جو براہ راست تبلیغ میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ الفاظ جن کے ذریعہ سے ہم اپنی بات دوسرے تک پہنچاتے ہیں وہ کسی مفہوم کا مجرد اظہار نہیں ہیں۔ جیسے پانچ اور دس کسی چیز کے عدد کا مجرد اظہار ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader