Urdu book · تعارف اسلام

دعوت

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

بلکہ اسی کے ساتھ ان کے اندر مختلف قسم کی کیفیات پائی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الفاظ اور مفہوم کے اعتبار سے دو بالکل یکساں کلام اپنی کیفیت اور اثر کے اعتبار سے بے حد مختلف ہو جاتے ہیں۔ اس فرق کو واضح کرنے کے لیے میں یہاں دو شعر نقل کرتا ہوں :- خرابابات عالم میں ہر چار جانب چمکتے ہوئے جام و مینا دھرے ہیں ضرورت اسی کی ہے اے اہل محفل کوئی ہاتھ اس کو بڑھا کر اُٹھائے یہ مے خانہ ہے یہاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی جو بڑھ کر خود اٹھائے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے یہ دونوں اشعار مفہوم کے اعتبار سے بالکل ہم معنی ہیں ، مگر الفاظ اور دروبست کے فرق نے دونوں میں زمین آسمان کا فرق پیدا کر دیا۔ یہ فرق کی ابتدائی قسم ہے جس کو ہم ادبی فرق کہہ سکتے ہیں۔ اور وہ قدرتِ کلام اور فنی ذوق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ دوسرا فرق وہ ہے جو صاحبِ کلام کی اپنی اندرونی کیفیات کے اعتبار سے وجود میں آتا ہے۔ اگر آپ ایک واقعہ سے متاثر ہوں تو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہ صرف آپ کا لب و لہجہ بدل جائے گا۔ بلکہ آپ کی زبان سے ایسے ایسے الفاظ نکلیں گے جو آپ کی اندرونی کیفیات کی ترجمانی کر رہے ہوں۔ جن میں آپ کا تاثر اسی طرح بھرا ہوا ہو جیسے کسی تازہ پھل میں اس کا رس بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ متاثر نہ ہوں تو آپ کا بیان واقع محض اخباری رپورٹ معلوم ہوگا۔ ذاتی طور پر ایمان دار اسلام کی زندگی کو پالینا آدمی کے تبلیغی کام میں یہی دوسری خصوصیت پیدا کرتا ہے۔ وہ اس کے کلام کو مجرد کلام کے مقام سے اٹھا کر موثر کلام بنا دیتا ہے۔ وہ اس میں شدت جذبات کا رس بھرتا ہے، وہ ننگے الفاظ کو کیفیات کا لباس اڑھاتا ہے۔ وہ حروف کے مجموعوں کو دل کے ٹکڑے بنا دیتا ہے وہ کلام کو خوشبو فروش کا معطر اشتہار بنا دیتا ہے جو صرف پڑھا نہیں جاتا، بلکہ اپنی خوشبو بھی مخاطب تک پہنچا دیتا ہے۔ جس کے اپنے اندر اسلام اترا ہوا ہو، اس کے کلام میں بظاہر تمام شرعی باتیں موجود ہوں گی مگر وہ بس الفاظ کا ایک مجموعہ ہو گا جس میں دل کی بو بسی ہوئی نہیں ہوگی۔ وہ ایک سپاٹ کلام ہو گا جو خود اپنی حقیقتوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جب ایک ایسا شخص ہوتا ہے جس نے فی الواقع دین کو پا لیا ہو تو اس کی زبان اور اس کے الفاظ میں حیرت انگیز خصوصیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ وہ جب لوگوں کو آخرت سے ڈرا تا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ اسرافیل صور لئے کھڑے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ کس وقت حکم ہو اور پھونک مار کر دنیا کو تہ و بالا کر دیں۔ اس کے بے قرار جملے صاف بتاتے ہیں کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ محض کچھ الفاظ کی تکرار نہیں ہے بلکہ وہ ان ہیجان خیز واقعات سے براہ راست آشنا ہو کر بول رہا ہے۔ اس کی تحریروں میں دل کا رس گھلا ہوا ہوتا ہے، اس کے الفاظ اندرونی تپش کی آنچ سے جل رہے ہوتے ہیں، اس کے ہر بول میں حقیقت کی خوشبو لپٹی ہوئی ہوتی ہے، اس کی سطروں کے درمیان جگہ جگہ نظر آتا ہے کہ آنسوؤں نے ٹپک کر لکھی ہوئی سیاہی کا رنگ بدل دیا ہے۔ یہ چیز بس اس کے کلام کو حقیقت بیانی کے ایک ایسے مقام پر پہنچا دیتی ہے جہاں دیکھنے والوں کو نظر آنا ہے گویا حقیقت خود مجسم ہو کر سامنے آگئی ہے حقیقت یہ ہے کہ تبلیغ و دعوت کے کام کو موثر بنانے کے لئے خارج میں کوئی ہتھیار موجود نہیں ہے اس کی صرف ایک ہی تدبیر ہے ۔ اپنے اندرون کو مسلمان بناؤ، اسی وقت تم اپنے بیرون کو مسلمان بنا سکو گے (الفرقان محرم ۵۱۴۸۸)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page