Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب کی تعبیر کے لیے میں لکھنے میں پڑھانے کا لفظ مولانا صدر الدین صاحب کے نام اپنے پرائیویٹ خط میں لکھ دیا تھا تو کیا واقعی میں نے اتنی بڑی غلطی کی ہے کہ اس پر آپ اس درجہ رنجیدہ ہوں۔ اور اس کے بعد اب آپ کے لیے جماعت کی رکنیت کو فوری طور پر ختم کر دینا ضروری ہو گیا ہو! درآں حالیکہ یہ امر واقعہ بھی ہے جس سے مجھے یقین ہے کہ آپ بھی انکار کرنا نہیں چاہیں گے کہ مولانا جلیل احسن صاحب آپ کے استاد ہیں۔ اس لیے اگر لکھنے پڑھانے کے الفاظ سے تعلیم و تعلم کی طرف کوئی اشارہ نکلتا بھی ہو تو یہ آپ کے لیے کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہونی چاہیے۔ رہی پلٹا کھانے کی بات تو اس پر آپ نے اپنے جس کرب و اذیت کا اظہار فرمایا ہے۔ اسے پڑھ کر مجھے افسوس تو ضرور ہوا لیکن معاف فرمائیے گا، اس کی کوئی ذمہ داری مجھ پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔ کیوں کہ آپ نے خواہ مخواه میرے فقروں کو غلط معنوں پر محمول فرمایا ہے۔ اور اس طرح نہ صرف اپنے اوپر بلکہ خود مجھ پر بھی بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ آپ کو معلوم نہیں کہ میرے دل میں آپ کی کتنی وقعت ہے۔ اور میں دوسروں کے سامنے آپ کی خوبیوں کا تذکرہ کن لفظوں میں کرتا رہا ہوں ۔ میں اس کا خیال بھی نہیں کر سکتا کہ آپ جس بات کو حق سمجھتے ہوں، اسے مصالح کی بنا پر ٹھکرا دیں یا کسی مفاد کی خاطر کسی غلط بات کو مان لیں۔ البتہ آپ کے بارے میں میرا احساس آج نہیں شروع ہی سے یہ ہے، جس کا میں خود آپ سے متعدد بار اظہار بھی کر چکا ہوں کہ آپ کے مزاج میں شدت ہے، اور اسی لیے آپ جس بات کو صحیح مان لیں پھر اس کے بارے میں کسی کی بات قبول کرنے کے لیے آسانی سے آمادہ نہیں ہوتے۔ ہاں کچھ عرصہ بعد آپ پر کسی طرح اپنی غلطی واضح ہو جائے تو اس صورت میں آپ کو لوٹنے میں بھی پس و پیش نہیں ہوتا یہ تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے بارے میں میرا یہ احساس غلط ہے لیکن میں نے جو بات لکھی ہے وہ بس اسی مفہوم کی حامل ہے۔ لکھتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page