خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
پڑھنے کے بعد بھی مجھے اس میں کوئی ایسی بات نظر نہیں آئی جس سے آپ مخلصانہ تعاون کی فضاباقی نہ رہنے پر استدلال کر سکیں۔ کیا یہ بات تعاون کے فقدان کی دلیل بن سکتی ہے کہ اس بات کے باوجود کہ مجھے آپ کا تبصرہ پڑھنے کے بعد آپ کی طرف سے تقریباً مایوسی ہو چکی ہے، میں مولانا صدرالدین صاحب سے یہ نہیں کہتا کہ اب آپ سے گفتگو کا سلسلہ منقطع کر دینا چاہیے۔ بلکہ ان سے دریافت کرتا ہوں کہ ان کے خیال میں بات چیت کی گنجائش باقی ہے یا نہیں۔ اور ان کے جواب کے مطابق میں آپ کو جواب دینے پر آمادگی کا اظہار کر رہا ہوں اور مولانا جلیل احسن صاحب کو بھی میں یہ نہیں لکھ رہا ہوں کہ آپ سے اب گفتگو فضول ہے۔ بلکہ یہ کہ ان کو جو کچھ گفتگو کرنی ہے، اسے جلد اختتام کو پہنچانے کی کوشش کریں، اور وہ بھی محض اس لیے کہ آپ ان کی طویل مراسلت کی تاب نہ لسکیں گے۔ بہر حال میں تو اپنے طور سے یہی سمجھ رہا ہوں کہ میرا وہ خط تعاون کی فضا کے قائم و برقرار رہنے بلکہ اس کو قائم و برقرار رکھنے کی خواہش کا پتہ دیتا ہے، نہ کہ اس کے ختم ہونے کا۔ البتہ اس کا میرے پاس کوئی علاج نہیں ہے کہ آپ نے غالباً کسی خاص تاثر کی بنا پر اس کے بعض فقروں کو وہ معنی پہننائے ہیں جن کی نہ لفظوں میں کوئی گنجائش ہے اور نہ وہ میرے حاشیہ خیال ہی میں تھے۔ پڑھانے لکھانے کا مفہوم غالباً آپ نے یہ سمجھا ہے کہ میں خدا خواستہ آپ کو مبتدی سمجھتا ہوں اور اس بنا پر مولانا جلیل احسن صاحب کو لکھ رہا ہوں کہ وہ آپ کو الف ب پڑھانا شروع کر دیں۔ حالانکہ وہ فقرہ میں نے محض ان کے مخصوص طریق مراسلت کو ذہن میں رکھ کر کچھ بے تکلفی کے انداز میں لکھ دیا تھا۔ یعنی جیسا کہ آپ نے خود بیان فرمایا تھا، وہ آپ کے مضمون پر خود کوئی تبصرہ لکھنا نہیں چاہتے تھے، بلکہ اس کے لیے وہ طریقہ یہ اختیار کرنا چاہتے تھے کہ وہ آپ کے مضمون کے سلسلے میں آپ سے کچھ سوالات کریں گے۔ اور آپ کو ان کا جواب لکھنا ہوگا۔ اور اس طرح سوال و جواب کے ذریعہ آپ اور وہ کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ اگر اس طریق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader