خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ نے اپنے خط میں اس کی بھی شکایت کی ہے کہ میں نے آپ کو زبانی یا تحریری طور سے مطمئن کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دراں حالیکہ میں نے اس کا وعدہ بھی کیا تھا۔ تو یہ بات تو آپ کو معلوم ہے ہی کہ آپ کی تحریر پر مفصل تبصرہ کرنے کے لیے مولا ناسدرالدین صاحب کو باقاعدہ متعین کیا گیا تھا، جو ہماری نگاہ میں اس کام کے لیے موزوں تر آدمی تھے، اور اسی کے ساتھ مولا نا جلیل احسن صاحب سے بھی خواہش کی گئی تھی کہ وہ بھی آپ کے خیالات سمجھنے اور جماعت کا نقطۂ نظر سمجھانے کے لیے آپ سے خط و کتابت کریں۔ اور اس مدت میں آپ اور مولا نا صدرالدین صاحب جو کچھ لکھتے رہے ہیں وہ بہر حال میری نگاہ سے بھی گزرتا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں آج آپ پر یہ ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے طور سے بہت پہلے سے یہ طے کر رکھا تھا۔ جس کا اظہار میں نے کچھ رفقاء سے کیا بھی تھا کہ اگر خدا نخواستہ آپ کو مطمئن کرنے کے سلسلے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئیں تو آخر میں اس موضوع پر میں ضرور آپ سے بات چیت کروں گا۔ مگر معلوم نہیں آپ کی اس تحریر کے بعد اس کا موقع باقی رہا یا نہیں ۔ بہر حال میری خواہش یہ ہے کہ میری مذکورہ بالا معروضات کی روشنی میں آپ اپنے خط پر کم از کم اس حد تک ضرور نظر ثانی کریں کہ جب تک آپ اپنے ذاتی مطالعہ و تحقیق اور اہل علم سے تبادلہ خیال کر لینے کے بعد اپنے خیالات و نظریات کے بارے میں پوری طرح یکسو نہ ہو جائیں ، جماعت سے علیحدگی کا فیصلہ ملتوی رکھیں ۔ ممکن ہے ہمارے اور آپ کے درمیان اتفاق کی کوئی صورت پیدا ہو جائے جس کے بہر حال ہم دل سے متمنی ہیں۔ لیکن اگر خدا نخواستہ آپ کو اپنے فیصلے پر اصرار ہی ہو تو مطلع فرمائیں کہ آپ کے فیصلہ پر چاروناچار ہمیں راضی ہی ہونا ہے۔ خاکسار ابواللیث جواب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader