خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
اعظم گڑھ محترمی سلام مسنون گرامی نامہ مورخہ 19 اکتوبر 62ء ملا۔ آپ نے اپنے سات صفحات کے اس خط میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ جو کچھ میں نے لکھا وہ محض میری غلط فہمی تھی۔ ورنہ آپ کی طرف سے کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں: اب آپ کو اختیار ہے کہ آپ میری بات مانیں یا نہ مانیں میں بہرحال آپ پر یہ الزام تو عائد نہیں کر سکتا کہ آپ جان بوجھ کر غلط بیانی کریں گے۔ مجھے ماننا چاہیے کہ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی صحیح ہوگا۔ مگر افسوس کہ آپ کے الفاظ آپ کے اس بیان کا ساتھ نہیں دیتے۔ مثلاً آپ نے لکھا ہے: میں آج آپ پر یہ ظاہر کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے طور سے بہت پہلے سے یہ طے کر رکھا تھا جس کا اظہار میں نے کچھ رفقاء سے کیا بھی تھا کہ اگر خدا نخواستہ آپ کو مطمئن کرنے کے سلسلے کی کوششیں ناکام ثابت ہوئی تو آخر میں اس موضوع پر میں ضرور آپ سے بات چیت کروں گا۔ مگر معلوم نہیں آپ کی اس تحریر کے بعد اس کا موقع باقی رہا یا نہیں۔ دوسری طرف مولا ناسدرالدین صاحب کے نام 28 اگست والے خط پر آپ کے قلم سے یہ الفاظ درج ہیں: وحید الدین خاں کی تازہ تحریر بھیج رہا ہوں۔ اسے پڑھ کر مطلع فرمائیے کہ ابھی ان سے کچھ بات چیت کرنے کی گنجائش ہے یا ان کو لکھ دیا جائے کہ ہم جو کچھ کرنا تھا کر چکے۔ اب وہ اپنے لیے جو فیصلہ چاہیں کر لیں۔ ان دونوں فقروں میں کھلا ہوا تضاد ہے۔ صدرالدین صاحب کے نام آپ کی مذکورہ بالا تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ انھیں کی بات کو اپنی طرف سے آخری قرار دے رہے ہیں۔ اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader