خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوں۔ جو گویا ان خطوط کا پیشگی جواب ہے۔ میں نے اس میں لکھا تھا کہ ”اگر آپ میرے خیالات پر تبصرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو میں اپنی تحریر موجودہ مکمل شکل میں آپ کی خدمت میں بھیج دوں“۔ مگر اس کے متعلق آپ کا کوئی جواب نہیں آیا۔ میں دوبارہ عرض کروں گا کہ اگر آپ کی طرف سے بلا کسی شرط کے اس ارادے کا اظہار ہو تو میں ان شاء اللہ بخوشی اپنی تمام تحریریں آپ کی خدمت میں روانہ کر دوں گا۔ لیکن اس یقین دہانی کے بغیر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کس لیے میں اپنی تحریر آپ کی خدمت میں بھیجوں۔ جہاں تک میرے خط مورخہ 8 نومبر کے جواب کا معاملہ ہے، اس سلسلے میں تحریر کے مطالبے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس خط کا جواب دینے کے لیے وہی معلومات کافی ہیں جن کی بنا پر آپ نے شعبۂ تصنیف سے میرا استعفیٰ منظور کیا تھا۔ جس طرح 5 ستمبر کو آپ اس پوزیشن میں تھے کہ ” فکری اختلاف کی بنا پر شعبہ تصنیف سے علیحدگی کے متعلق میری درخواست منظور کریں ۔ ٹھیک اسی طرح آج آپ اس پوزیشن میں ہیں کہ میرے مذکورہ بالا خط کا جواب تحریر فرمائیں۔ اگر آپ کا 5 ستمبر کا فیصلہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا تو یقیناً آج بھی آپ کو میرے خط کا جواب دینے میں کوئی زحمت پیش نہیں آنی چاہیے۔ میں اپنے 8 نومبر کے خط کے سلسلے میں آپ کے جواب کا شدت سے انتظار کر رہا ہوں۔ براہ کرم جلد روانہ فرمائیں۔ خادم وحید الدین
اس کے بعد جب کہ میرے خط 8 نومبر کو تقریباً ڈیڑھ مہینے ہو چکے تھے، موصوف کی طرف سے حسب ذیل جواب موصول ہوا۔ دہلی 19 دسمبر 1962ء

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader