Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

قسم کی باتیں خوب مشہور ہو رہی ہیں کہ یہ تو ہٹ دھرم آدمی ہیں۔ جس چیز کو پکڑ لیتے ہیں پھر اسے نہیں چھوڑتے۔ اب خود ہی کسی وجہ سے ’’پلٹا‘‘ کھائیں تو کھائیں، ورنہ ان کو سمجھانے بجھانے کا کچھ فائدہ نہیں۔ یہ ہے اصل صورت حال۔ اب آپ بتائیں کہ ایسی حالت میں جماعت اسلامی سے استعفا نہ دوں تو اور کیا کروں۔ خادم وحیدالدین اس کے بعد امیر جماعت کی طرف سے ایک کارڈ ملا جس میں لکھا تھا۔ ’’آپ کی تحریریں رام پور سے منگوائی ہیں۔ امید ہے کہ دو تین روز میں آ جائیں گی۔ اس کے بعد ان شاء اللہ آپ کو کچھ لکھ سکوں گا۔‘‘ جواب میں میں نے لکھا کہ رام پور میں مولانا صدرالدین صاحب کے پاس میری جو تحریر ہے وہ بہت ناقص اور نامکمل حالت میں ہے۔ اگر آپ میرے خیالات دوبارہ واضح شکل میں دیکھ کر اس پر تبصرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو میں یہاں سے اس کی ایک نقل آپ کو بھیج دوں۔ آپ کا تبصرہ میرے لیے بہت قیمتی ہے۔ اور اس کے لیے اپنی تحریر بھیجنے میں یقیناً مجھے بہت خوشی ہوگی۔ اس کے بعد پھر قیم جماعت کی طرف سے تحریر کا تقاضا آیا جس کے جواب میں میں نے لکھا۔ اعظم گڑھ، 5 ستمبر 1962ء محترمی سلام مسنون قیم جماعت اسلامی جناب محمد یوسف صاحب کے دستخط شدہ دو خط مورخہ 27 نومبر اور 3 دسمبر 1962ء وصول ہوئے۔ میں اس سے پہلے 24 نومبر کو ایک خط آپ کے نام روانہ کر چکا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page