خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ سے گفتگو کرنے کا خواہش مند ہوں۔ مثلاً میں مثبت طور سے یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ کے نزدیک مسلمانوں کے کرنے کا کام کیا ہے۔ اور اس کا کیا تفصیلی نقشہ کار آپ کے ذہن میں ہے تا کہ میں اندازہ کر سکوں کہ ہمارے نقشہ کار سے وہ کہاں تک مختلف ہے اور کیا اس اختلاف کے باوجود ہمارے اور آپ کے درمیان کسی درجہ میں اشتراک و تعاون ممکن ہے یا نہیں۔ لیکن ظاہر ہے اس گفتگو کے لیے کسی خاص جلدی کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا نخواستہ آپ نے جماعت سے اپنی علیحدگی ہی کا فیصلہ کر لیا تو بھی یہ بات چیت ہو سکتی ہے ۔ ویسے میں وسط جنوری تک اعظم گڑھ آنے کا ارادہ رکھتا ہوں ، اگر آپ پسند فرمائیں گے تو اس وقت بھی بات چیت ہو سکتی ہے ۔ والسلام ابواللیث
جواب اعظم گڑھ، 27 دسمبر 1962ء محترمی مولانا ابو اللیث صاحب سلام مسنون گرامی نامہ مورخہ 19 دسمبر ملا۔ مجھے افسوس ہے کہ آپ اصل مسئلہ سے گریز کر کے ہر بار کچھ ایسی باتیں لکھ دیتے ہیں جس کے بعد آپ کی طرف سے میری تحریر کا ایک قانونی جواب تو ہو جاتا ہے مگر اصل مسئلہ پھر بھی باقی رہتا ہے۔ مولانا صدر الدین صاحب کی شرط کو انکار میں نے اس لیے کہا تھا کہ وہ یہ نہیں بتاتے کہ میرے انداز تبصرہ میں وہ کون سی خرابی ہے جس کی بنا پر وہ میرے تبصرہ کا جواب نہیں دے سکتے۔ میں نے خط لکھ کر ان سے پوچھا تھا۔ مگر اس کے جواب میں انہوں نے دوسری بات لکھ دی۔ اور میرے انداز کی خرابی کی وضاحت نہیں فرمائی۔ میں نے اپنے طور پر قیاس کیا تو مجھے یہی نظر آیا کہ میں نے دلیل کی بنیاد پر ان کی باتوں کو رد کیا ہے۔ اگر اس کا نام انداز کی خرابی ہے تو ظاہر ہے کہ میں کس طرح اسے چھوڑ سکتا ہوں ۔ اور اگر دوسری کوئی چیز ہے تو ان کو اسے بتانا چاہیے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader