Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا جلیل احسن صاحب کے سوال و جواب کے بارے میں آپ نے اپنے خط مورخہ 20 اکتوبر میں لکھا تھا : " مولانا جلیل احسن صاحب نے لکھا ہے کہ انہوں نے جو سوالات آپ کے پاس بھیجے ہیں ، وہ قطعاً غیر متعلق نہیں ہیں۔ تاہم ان کا متعلق ہونا واضح نہ ہو تو اس بارے میں آپ ان سے دریافت کر سکتے ہیں۔" اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے نزدیک ان سوالات کا صرف مولانا جلیل احسن صاحب کے ذہن میں اصل مسئلہ سے متعلق ہونا کافی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ مجھے معلوم ہو کہ وہ کس طرح میرے مسئلہ سے متعلق ہیں۔ مگر میرے اصرار کے باوجود مولانا موصوف نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی۔ اس کے باوجود اب خط میں آپ اس طرح لکھ رہے ہیں گویا مولانا جلیل احسن صاحب کے ذہن میں ان سوالات کا زیر بحث مسئلہ سے متعلق ہونا کافی ہے۔ میرے علم میں ان کی اس حیثیت کا آنا ضروری نہیں۔ ایسی حالت میں عرض ہے کہ اگر آپ میری باتوں کا واقعی جواب دیں تو یقیناً میں ان پر غور کروں گا۔ مگر اب تک آپ جس طرح جواب دیتے رہے ہیں اگر ویسا ہی جواب پھر دینا ہو تو میں آپ کے الفاظ دہراؤں گا کہ "ایسی صورت میں واقعی اب اس بات چیت کو طویل دینے سے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ اس لیے اب اس سلسلے کو ختم کر دینا ہی مناسب ہوگا۔" اس لیے ایسے جواب کے مقابلے میں زیادہ بہتر یہ ہے کہ آپ میرا استعفیٰ منظور فرمائیں ۔ اور اس جھنجھٹ سے مجھے نجات دے دیں۔ خادم۔ وحید الدین اس کے بعد مولانا ابو اللیث صاحب کی طرف سے مجھے حسب ذیل خط ملا۔ دہلی ، 7 جنوری 1963ء

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page