خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
آواز معلوم ہوتی ہے۔ اس میں اور موجودہ فکر میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے اختلافی بحث کو چھوڑ دو اور مل کر بدستور کام کرتے رہو۔ ابھی حال میں مولانا عبدالعلیم اصلاحی اور دیگر افراد جماعت نے یہی بات شدت سے میرے سامنے رکھی۔ اور آپ نے بھی دوبارہ یہی بات اپنے خط مورخہ 19 دسمبر 1962ء میں ان الفاظ میں کہی ہے: ”جہاں تک میرا تعلق ہے، جماعت کے نصب العین کے بارے میں آپ کا بنیادی نقطہ اختلاف میری سمجھ میں نہیں آسکا-“ مگر اب معلوم نہیں کس خطرے کے پیش نظر آپ مجھ سے اس قسم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بہرحال میں تو بہت پہلے اس رائے پر پہنچ گیا تھا کہ اب میرے لیے جماعت اسلامی میں رہنا ممکن نہ ہو سکے گا۔ مگر آپ حضرات مندرجہ بالا باتوں اور زیرِ بحث مسئلہ کی نزاکت کی وجہ سے اصولی اعتبار سے اپنے کو مجروح کرتے ہوئے میں نے یہ گوارا کر لیا تھا کہ ضمیر کی خلش کا مسئلہ ختم ہو جائے تو میں اپنے آپ کو اس ڈھانچہ میں باقی رکھوں۔ یہ محض مطابقت کی ایک صورت تھی، اور وہ بھی صرف اسی وقت ممکن تھی جب کہ لٹریچر کی حیثیت کے بارے میں آپ وہ بات مان لیتے جو پہلے رام پور میں زبانی اور پھر یہاں سے تحریری شکل میں میں نے آپ کے سامنے رکھی تھی۔ مگر آپ کے مندرجہ بالا جواب کے بعد یہ آخری گنجائش بھی ختم ہو گئی۔ اس لیے گزارش ہے کہ براہ کرم میرے استعفیٰ کی منظوری کی اطلاع دے کر مجھے سبکدوش فرمائیں۔ خادم وحیدالدین
دہلی، 21 فروری 1963ء برادر عزیز السلام علیکم کئی دن پہلے آپ کا گرامی نامہ ملا تھا۔ رمضان میں بحث و مباحثہ پر طبیعت آمادہ نہیں ہے اور معلوم نہیں کیوں دل میں بار بار یہ خیال آرہا ہے کہ آپ سے ایک بار ذرا کھل کر بات چیت ہو جائے تو شاید ہم ایک دوسرے کو آسانی سے چھوڑنا نہیں چاہیں گے۔ اور یوں بھی میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader