خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
لفظوں میں دستور کے ساتھ حلف وفاداری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے خط مورخہ 19 اکتوبر 62ء میں میرے بارے میں لکھا تھا کہ ”آپ اس وقت بہر حال رکن جماعت ہیں، ایسی حالت میں اگر میں یہ کہوں تو آپ کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہوگا کہ آپ کے الفاظ میں چونکہ ”رفقاء جماعت اصلاً محض دستور کے پابند ہیں“۔ اس لیے ایک ایسا شخص جس کو آپ ابھی تک رکن تسلیم کر رہے ہوں، اس سے اس قسم کا مطالبہ کرنے سے پہلے آپ کو یہ بتانا ہوگا کہ کس قانونی دفعہ کے تحت آپ اس سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ جماعت اسلامی میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کا یہ خیال ہے کہ دستور میں نصب العین کا فقرہ بدل کر آپ حضرات نے جماعت کا اصل نصب العین ہی بدل دیا ہے۔ پھر کیا آپ نے ایسے ارکان سے موجودہ دستور کا حلف اٹھایا ہے۔ اور ان حضرات کی طرف سے اس قسم کی تعمیل کے بعد آپ ان کو جماعت میں لیے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے اپنے اس مطالبہ کی نوعیت اور اس کے عواقب پر پوری طرح غور نہیں فرمایا۔ ورنہ آپ ہرگز اس قسم کی بات نہ لکھتے۔ آپ کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ دستور کی شکل میں جو قانونی ڈھانچہ آپ حضرات نے تیار کیا ہے وہ جس طرح آپ کے لیے محفوظ دیوار ہے، اسی طرح دیگر ارکان کے لیے بھی وہ محفوظ دیوار بن سکتا ہے، اور بنارس کے بعض افراد جماعت کا تجربہ تو یہ بتاتا ہے کہ یہ دیوار ان کے حق میں اتنی محفوظ ہے کہ آپ خواہش کے باوجود اسے توڑ نہیں سکتے۔ لیکن آپ مطمئن رہیں مجھے اس قسم کا کوئی قانونی کھیل نہیں کھیلنا ہے۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ مولانا مودودی کے لٹریچر کی حیثیت کے بارے میں جس بات کا تقاضا میں نے کیا تھا اور جس کے بعد اپنی بحث کو واپس لے لینے کی آمادگی ظاہر کی تھی، وہ خالص اصولی حیثیت سے میرے لیے کوئی مناسب بات نہیں تھی، مگر یہ صرف آپ لوگ ہیں جنہوں نے مجھ کو اس بات کے لیے آمادہ کیا۔ آپ اور بہت سے دیگر افراد عرصہ دراز سے مجھ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ تمہاری تنقیدوں سے قطع نظر، اصولی طور پر بات تم کہتے ہو، وہ جماعت کے افراد کو بالکل اپنے دل کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader