خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
والسلام ابواللیث ؞؞؞؞؞ جواب اعظم گڑھ، 26 فروری 1963 ء محترمی مولانا ابو اللیث صاحب سلام مسنون گرامی نامہ مورخہ 21 فروری ملا۔ آپ نے اپنے اس خط میں گفتگو کی ضرورت کا اظہار کیا ہے اور لکھا ہے کہ ”آپ شوریٰ کے اجتماع میں شرکت کے لیے دہلی آئیں تو اس موقع پر بات چیت ہو جائے ۔“ مگر موجودہ حالت میں میرے لیے مجلس شوریٰ کے اجتماع میں شریک ہونا بالکل بے معنی ہے۔ چنانچہ میں نے طے کیا ہے کہ آپ کی طرف سے اگر دعوت نامہ آیا بھی تو اس مرتبہ میں نہیں جاؤں گا۔ اس لیے دہلی میں ملاقات نہ ہو سکے گی۔ البتہ آپ کے خط سے معلوم ہوا کہ آپ مارچ میں بورڈ آف اسلامک پبلی کیشنز کے اجلاس میں شرکت کے لیے علی گڑھ جانے والے ہیں۔ وہاں ملاقات ہو سکتی ہے۔ کیوں کہ میں بھی جلد ہی دوسالہ قیام کے پروگرام کے تحت علیگڑھ جا رہا ہوں۔ میں نے ”علم جدید کا چیلنج“ کے نام سے ایک کتاب لکھنا شروع کیا ہے۔ اور اس سلسلے میں دو سال علی گڑھ رہ کر وہاں اس کی تیاری کرنا چاہتا ہوں۔ اگر میرے وہاں پہنچنے کے بعد آپ کا علی گڑھ کا سفر ہوا تو ان شاء اللہ وہاں ملاقات ہو سکے گی۔ مگر میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ گفتگو آخر کس مسئلہ پر ہوگی۔ گفتگو تو اس سے پہلے اعظم گڑھ میں ہو چکی ہے۔ اس وقت اور اس کے بعد تحریری طور پر آپ کو جو کچھ کہنا تھا، کہہ چکے ہیں۔ پھر اب میری سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کون سی بات ہے جس پر ہم آپ گفتگو کریں گے۔ آپ نے لکھا ہے کہ ”ہم ایک دوسرے کے بارے میں بدگمانیاں رفع کر کے اختلافی مسائل پر کھل کر بات چیت کر لیں ۔“ مگر مجھے آپ سے کوئی ذاتی شکایت یا بدگمانی نہیں ہے جس کو رفع کرنے کی ضرورت ہو۔ میرا اصل مسئلہ اس نظریاتی تشریح سے متعلق ہے جو مولانا مودودی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader