Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا جلیل احسن ندوی

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

کے لٹریچر میں پائی جاتی ہے۔ آپ یا جماعت اگر زیر بحث آتے ہیں تو صرف اس لیے کہ آپ لوگ اس کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اور اس کی طرف سے مدافعت کر رہے ہیں۔ اعظم گڑھ کی گفتگو میں جب میں نے اس کا ذکر چھیڑا تھا تو یہ دراصل گفتگو کو محدود کرنا نہیں تھا، جیسا کہ آپ نے لکھا ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ کو متعین کرنا تھا۔ کیوں کہ میرا اصل مسئلہ فی الواقع مولانا مودودی کا لٹریچر ہی ہے۔ مولانا مودودی نے جس انداز سے دین کی تشریح کی ہے میرا شدید احساس ہے کہ وہ صحیح تشریح نہیں ہے۔ میرا یہ احساس ان کی کسی ایک کتاب یا کسی کتاب کے چند پیرا گراف کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ ان کے سارے ہی دعوتی لٹریچر کے بارے میں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مولانا مودودی کی غلطی کوئی جزئی غلطی نہیں ہے بلکہ دین کا مجموعی فکر قائم کرنے میں وہ غلطی کر گئے ہیں۔ اس لیے دین کے سارے ہی اجزاء کی حیثیت ان کے ذہن میں بدل گئی۔ اورا س طرح دین کے بارے میں ان کی تمام کی تمام تشریحات اس سے متاثر ہوئی ہیں۔ دوسری طرف آپ اور جماعت اسلامی کے دوسرے افراد اس لٹریچر کو جماعت کی فکر کا مستند ترجمان سمجھتے ہیں۔ اور اس لیے قدرتی طور پر دین کی صحیح ترین شرح بھی۔ ایسی حالت میں میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کس طرح جماعت اسلامی کے اندر رہ سکتا ہوں۔ لٹریچر کے بارے میں میرا مندرجہ بالا احساس قدرتی طور پر تقاضا کرتا ہے کہ میں اس کی تردید یا تصحیح کرنے کی کوشش کروں۔ مگر جماعت کے اندر رہتے ہوئے جب میں ایسا کرتا ہوں تو فوراً خیال ہوتا ہے کہ یہ دیانت داری کے خلاف ہے۔ کیوں کہ ایک رکن جماعت کے الفاظ میں یہ جماعت کو اندر سے ”سبوتاژ“ کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے کسی شخص کو جماعت کو باہر آ کر اپنا کام کرنا چاہیے، نہ کہ اس کے اندر سے۔ اگر آپ گفتگو کے لیے کہیں تو میں بہر حال آپ کے حکم کی تعمیل کروں گا۔ مگر جب میں دیکھتا ہوں کہ یہ سلسلہ ڈھائی سال سے جاری ہے اور اب تک اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تو آئندہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page