Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت و تحریک کا کام کرنے لگا۔ اس حال میں دس سال کے قریب گزر گئے۔ اس کے بعد اکتوبر 1965ء میں مجھے یہاں کی جماعت کے شعبہ تصنیف و تالیف میں معاونت کی غرض سے رام پور بلایا گیا۔ یہاں آنے کے بعد مجھے جو تحریری کام کرنا تھا، اس کے لیے ضروری ہوا کہ میں قرآن کا باقاعدہ مطالعہ کروں جس کا موقع اس سے پہلے کی زندگی میں مجھے کم ملا تھا۔ جب میں نے قرآن کو از سر نو پڑھنا شروع کیا تو میں نے دیکھا کہ میں ایک نئے احساس سے دوچار ہورہا ہوں ۔ میں نے محسوس کیا کہ قرآن میرے موجودہ خیالات کی تصدیق نہیں کر رہا ہے۔ قرآن میں مجھے اسلام کی تصویر اس سے مختلف نظر آئی جو میں نے جماعت اسلامی کے لٹریچر میں اب تک دیکھی تھی۔ اس چیز نے مجھے ایک طویل ذہنی کشمکش میں مبتلا کر دیا۔ جس کا ہر اگلا دن میری اس کیفیت کو شدید تر کرتا رہا ہے۔ پہلے میں نے اس کے متعلق یہاں کی جماعت کے ذمہ دار افراد سے تبادلہ خیال کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ میرے احساس کو بدل نہ سکے۔ بالآخر میں نے طے کیا کہ اپنے خیالات کو مکمل طور پر قلم بند کر ڈالوں ۔ یہ میرے اس ذہنی سفر کی مختصر روداد ہے جس کا آغاز پانچ سال پہلے ہوا تھا۔ اور یہ مراسلہ تحریر جس کی آخری شکل ہے۔ یہ تحریر چونکہ اصلاً آپ کو بھیجنے کی غرض سے نہیں لکھی گئی تھی، بلکہ بعد کو اس کا فیصلہ کیا گیا، اس لیے مختلف پہلوؤں سے آپ اس میں عدم مناسبت پائیں گے، آپ کو وہ مراسلہ کے بجائے مضمون نظر آئے گی۔ مگر میں درخواست کروں گا کہ ان پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہوئے آپ اس کی اصل بات پر اپنا واضح تبصرہ روانہ فرمائیں ۔“ میں اس سلسلے میں مولانا مودودی کے جواب کا شدت سے منتظر تھا۔ کیوں کہ اس فکر کے خالق ہونے کی وجہ سے انھیں سے سب سے زیادہ توقع تھی کہ وہ اس فکر پر بھر پور تبصرہ کریں گے۔ مگر ایک روز ڈاک سے مجھے ایک لفافہ ملا جس میں موصوف کا حسب ذیل خط بند تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page