Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

میں 25 جون کی ڈاک سے ان کے نام حسب ذیل خط روانہ کیا۔ ”گرامی نامہ مورخہ 15 جون 1962ء مجھے رام پور میں 23 جون کو ملا۔ افسوس کہ بالکل خلاف توقع آپ نے میری تحریر کی صرف رسید بھیجنے پر اکتفا کی۔ اور اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ میں پھر آپ کو خدا کا واسطہ دے کر لکھتا ہوں کہ براہ کرم میری مدد فرمائیے۔ میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرے سامنے مذہب کے نام پر محض ایک شورش برپا کرنا نہیں ہے۔ بلکہ میں بے لاگ مطالعہ کے بعد بالکل دیانتداری کے ساتھ ایک نتیجے پر پہنچا ہوں۔ میری عقل اور ضمیر اپنی موجودہ معلومات کی روشنی میں مجھ کو یہ یقین کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ دین کی وہ تشریح غلط ہے جس سے میں پچھلے پندرہ سال سے وابستہ تھا۔ اس کے بالمقابل دوسری تشریح جو مجھے صحیح معلوم ہوتی ہے اس کو بھی میں نے کافی وضاحت سے اپنی تحریر میں بیان کر دیا ہے۔ آپ اس کو پڑھ کر متعین دلائل کے ساتھ اپنی رائے تحریر فرمائیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں پوری سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کروں گا، اور اگر میری فہم نے گواہی دی کہ آپ کی بات قرآن و سنت سے زیادہ قریب ہے تو ان شاء اللہ کوئی چیز مجھے آپ کی بات مان لینے میں روک نہیں بنے گی، بے شک آپ اپنے خیالات تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں اور اپنے مضامین میں بیان کر چکے ہیں۔ مگر اس قسم کا کوئی بھی تصنیفی ذخیرہ آئندہ پیش آنے والے سوالات کا دروازہ بند نہیں کرتا۔ آپ کی کتابیں آپ کے نقطہ نظر کا اظہار ہیں نہ کہ میرے سوالات کا جواب۔ اپنے نقطہ نظر کے حق میں آپ نے اپنی تصنیفات میں جو دلائل قائم کیے ہیں، ان میں اگر کوئی شخص کسی سقم کی نشاندہی کرتا ہے تو ضرورت ہے کہ اس بیان کردہ سقم کی نسبت سے دوبارہ آپ اپنے نقطہ نظر کی وضاحت فرمائیں۔ اس سلسلے میں آپ کو بہت زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ نے اس سے پہلے ایسا کیا ہے کہ کسی معترض کی تحریر کو پڑھ کر اس کے بنیادی نکات متعین کر لیے اور تفصیلات کو چھوڑ کر صرف ان بنیادی نکات کا جواب دے دیا۔ ایسا ہی آپ میری تحریر کے معاملہ میں کر سکتے ہیں۔ آپ خود بھی بار بار یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ اگر کسی کے نزدیک آپ کا نقطہ نظر قرآن و

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page