Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا ابوالاعلیٰ مودودی

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

سنت کے مطابق نہیں ہے تو وہ اسے قرآن وسنت کے ذریعہ آپ پر واضح کرے۔ آپ یقیناً اس پر غور کریں گے اور جس وقت بھی آپ پر منکشَف ہوگا کہ آپ ” کہیں بال برابر بھی قرآن وسنت سے ہٹے ہوئے ہیں “ آپ فوراً حَق کی طرف رجوع کر لیں گے۔ اس لیے جب ایک شخص قرآن وسنت کی روشنی میں آپ کی غلطیوں کی طرف آپ کی توجہ دلاتا ہے تو آپ کا یہ رویہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے کہ آپ نہ اس کو قبول کریں ، نہ دلائل سے اس کی تردید کریں ، حتیٰ کہ اس کو پورا پڑھنے کی زحمت بھی گوارا نہ فرمائیں۔ اور محض بلا دلیل اس کے خلاف ایک فیصلہ سنا دیں۔ میں یہ بھی عرض کر دوں کہ یہ محض ایک میری ذات کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہاں جن جن ساتھیوں کو میں نے یہ تحریر دکھائی ہے ، اور ان میں نیچے سے اوپر تک کے افراد شامل ہیں ، تقریباً سب کے سب آپ کے جواب کے منتظر ہیں۔ انہوں نے اگرچہ میرے خیالات سے اتفاق ظاہر نہیں کیا۔ مگر سابقہ نظریہ پر اپنے شرح صدر کو باقی رکھنے کے لیے وہ ضرورت سمجھتے ہیں کہ آپ دلائل کے ساتھ ان اعتراضات کی تردید فراہم کریں۔ جو میری تحریر میں اٹھائے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ صرف میرے اعتراضات کی تردید فراہم کریں۔ جو میری تحریر میں اٹھائے گئے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ صرف میرے او پر نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کے اوپر بہت بڑا ظلم ہوگا کہ اس مسئلہ پر آپ خاموشی اختیار کر لیں ۔ پھر مجھے یہ بھی امید نہیں ہے کہ آپ فی الواقع اس مسئلہ پر ہمیشہ خاموش رہ سکیں گے ۔ پھر آئندہ جو کچھ آپ کہیں گے ، اس کو پہلے کیوں نہ کہہ دیں ۔ یہ آپ کی طرف سے اس بات کی کوشش ہوگی کہ یہ مسئلہ آپس کی گفتگو سے حل ہو جائے ۔ اور برسرِ عام بحث و تکرار کی نوبت نہ آئے ، جیسا کہ خود میں نے اپنی تحریر کو اشاعت کے لیے دینے سے پہلے اسی غرض سے اس کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ آخر میں پھر کہوں گا کہ آپ کا علم کتاب وسنت اگر یہ بتاتا ہے کہ میں حق پر نہیں ہوں اور اس کے لیے آپ کے پاس قاطع دلیل بھی موجود ہے تو آپ کا فرض ہے کہ مجھ پر دلائل سے میری غلطی واضح فرمائیں۔ اگر آپ دلیل رکھنے کے باوجود خاموش رہتے ہیں اور ایک ایسی بات جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page