تیسرا مرحلہ
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
آخری رائے قائم کر سکوں۔ آپ کے اس جواب کی نوعیت کیا ہو۔ اس کے بارے میں میری کوئی تجویز نہیں ہے۔ آپ خود سے کوئی جواب دیں۔ یا مجلسِ شوریٰ یا جماعت کے علما سے مشورہ کر کے مجھے آگاہ فرمائیں۔ بہر حال آپ کی طرف سے جو جواب مجھے ملے گا۔ میں اس کو جماعت کا جواب سمجھوں گا۔ اور اس کی روشنی میں یہ فیصلہ کروں گا کہ اب مجھے اپنے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔“ اس کے دو ہفتہ بعد دہلی میں مجلسِ شوریٰ کا سالانہ اجلاس شروع ہوا۔ اس موقع پر امیر جماعت نے ارکانِ شوریٰ کو میری تحریر دیکھنے کے لیے دی۔ اور پھر 19 اپریل کو دن کی دو نشستوں میں کئی گھنٹے اس پر غور کیا گیا۔ چوں کہ مجھے ان نشستوں سے اٹھا دیا گیا تھا، اس لیے مجھے نہیں معلوم کہ اس میں کیا کیا باتیں ہوئیں۔ البتہ آخر میں امیر جماعت نے مجھے اجلاس میں بلا کر بتایا کہ ہم سب لوگوں کو متفقہ طور پر یہ خیال ہے کہ آپ کی تحریر پر پوری سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس کا جواب جلدی میں نہیں دیا جا سکتا اس میں کافی وقت لگے گا۔ چنانچہ مولانا صدر الدین صاحب کو اس کے لیے متعین کیا گیا ہے کہ وہ اس کا مفصل جواب تیار کریں۔ بعد کو اس کے لیے چار مہینے کی مدت مقرر ہوئی اور یہ طے ہوا کہ مولانا صدر الدین صاحب اپنا تحریری جواب تیار کر کے اگست کے آخر تک ضرور بھیج دیں۔ اس کے علاوہ امیر جماعت اور شوریٰ کے ارکان نے یہ بھی خواہش ظاہر کی کہ تحریر کی ایک ایک نقل مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا جلیل احسن ندوی کی خدمت میں بھی روانہ کی جائے اور اس کے متعلق ان لوگوں کی رائئیں معلوم کی جائیں، مولانا مودودی کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ جماعت اسلامی جس فکر کی بنیاد پر اٹھی ہے، اس فکر کے پیدا کرنے والے دراصل وہی ہیں اور مولانا جلیل احسن ندوی کی اہمیت اس اعتبار سے ہے کہ وہ جماعت کے حلقہ میں اس حیثیت سے ایک نمایاں شخص ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ قرآن کے مطالعہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader