تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
اندرونی احساس اس کو قبول کر رہا ہو۔ انہوں نے کہا نہیں عقل تو بہت دھوکا دینے والی چیز ہے، وہ طرح طرح سے آدمی کو گمراہ کرتی ہے، اصل چیز قلب ہے، قلب اگر مطمئن ہو جائے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آدمی کو حق مل گیا ہے۔ میں نے کہا یہ کوئی اصول نہیں۔ علم و شریعت دونوں اس کو ماننے سے انکار کریں گے۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ایک نقطۂ نظر جس کو آپ نے پسند کر لیا ہے، اس کے خلاف قرآن وحدیث کے ایسے حقائق آپ کے سامنے رکھے جائیں جس کا آپ کے پاس کوئی جواب نہ ہو، مگر اس کے باوجود آپ اپنی فکر پر بدستور قائم رہیں، اور یہ کہیں کہ میرا قلب مطمئن ہے۔ حالانکہ جس طرح عقل دھوکا کھاتی ہے اسی طرح قلب بھی آدمی کو اکثر دھوکے میں مبتلا کر دیتا ہے۔ وہ آخر وقت تک اصرار کرتے رہے کہ اصل چیز قلب ہے، اگر قلب مطمئن ہو تو یہ اس اطمینان کے لیے کافی ہے کہ آدمی حق پر ہے۔ تیسرا مرحلہ یہ اپنے خیالات کے سلسلے میں جماعت کے اوپر کے افراد سے میری انفرادی گفتگوؤں کی مختصر روداد ہے جو پورے دو سال تک جاری رہی۔ اس کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس قسم کی گفتگوؤں سے کوئی بات بننے والی نہیں ہے۔ اب میں نے طے کیا کہ اس سلسلے میں جماعت کا آخری اور انتہائی جواب معلوم کروں ۔ چنانچہ میں نے اپنی تحریر کی ایک نقل امیر جماعت اسلامی ہند مولانا ابواللیث صاحب کو اپنے خط مورخہ یکم اپریل 1962ء کے ساتھ روانہ کر دی۔ خط کا مضمون حسب ذیل تھا۔ ”اس خط کے ساتھ اپنی تحریر کی ایک نقل روانہ کر رہا ہوں، یہ تحریر آپ کے پاس روانہ کرنے کی غرض یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے ذمہ دار اعلیٰ کی حیثیت سے میں آپ کے سامنے اپنے وہ خیالات رکھ دوں جنہوں نے مجھ کو جماعت کے بارے میں شدید بے اطمینانی میں مبتلا کر دیا ہے میں ان امور کے سلسلے میں آپ کا واضح جواب معلوم کرنا چاہتا ہوں، تا کہ جماعت سے اپنے تعلق کے بارے میں کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader