Urdu book · تعبیر کی غلطی

خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

خط و کتابت مولاناصدرالدین اصلاحی اس سلسلے میں سب سے پہلے مولاناصدرالدین صاحب اصلاحی کا نام آتا ہے۔ موصول امیر جماعت اور پوری مجلس شوریٰ کے متفقہ فیصلہ کے تحت خاص طور پر میری تحریر کا جواب تیار کرنے کے لیے مامور کیے گئے تھے۔ اور ان سے کہا گیا تھا، کہ اگر وہ ضرورت سمجھیں تو چار مہینے کا اپنا پورا وقت دے کر اس کا مکمل اور مفصل جواب لکھیں۔ اس فیصلے کے مطابق، میں نے 22 اپریل 1962ء کی صبح کو اپنی تحریر کی ایک نقل رام پور میں مولاناصدرالدین صاحب کے حوالے کردی۔ جولائی 1962ء کی 29 تاریخ تھی، دن کے گیارہ بجے میں رام پور میں جماعت اسلامی ہند کے مرکزی کتب خانہ میں بیٹھا ہوا مطالعہ میں مشغول تھا کہ پیچھے سے آواز آئی—“اپنی امانت“۔ دیکھا تو جناب افضل حسین خاں صاحب (ناظم درس گاہ) کھڑے تھے۔ انہوں نے ایک لفافہ میری طرف بڑھا دیا۔ یہ وہی لفافہ تھا جس کے لیے میں پچھلے چند مہینوں سے سراپا انتظار بنا ہوا تھا۔ اس میں مولاناصدرالدین صاحب کی وہ تحریر تھی جو انہوں نے مجلس شوریٰ کے فیصلے کے مطابق میری تحریر کے جواب میں مرتب کی تھی۔ اور اسی کے ساتھ امیر جماعت مولانا ابواللیث صاحب کا ایک چھوٹا سا خط حسب ذیل مضمون پر مشتمل تھا: مولاناصدرالدین صاحب کا مضمون ارسال خدمت ہے۔ براہ عنایت اسے مطالعہ فرمانے کے بعد مطلع فرمائیں کہ اصولی طور پر آپ کہاں تک اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ آپ کے تاثرات معلوم ہونے کے بعد اگر ضرورت محسوس ہوئی تو زبانی بات چیت کے لیے یا تو میں خود رام پور حاضر ہوں گایا آپ کو دہلی آنے کی تکلیف دوں گا خدا کرے یہ مضمون آپ کی تشفی کا موجب ثابت ہو اور ہم اور آپ بدستور ایک دوسرے کی رفاقت میں اپنا سفر جاری رکھ سکیں۔“ لفافہ کھول کر میں نے مولاناصدرالدین صاحب کے جواب کی سرخی دیکھی۔ لکھا ہوا تھا’’تعبیر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page