خط و کتابت مولانا صدر الدین اصلاحی
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
کی غلطی کا ایک اجمالی جائزہ‘‘ جی چاہا کہ فوراً پڑھنا شروع کردوں۔ مگر مجھے اپنا وہ عہد یاد آیا جو میں نے اپنے خدا سے کیا تھا۔ میں فوراً اُٹھا، کتابیں الماری میں رکھیں، کمرہ بند کیا اور قریب کی مسجد میں جاکر وضو کیا۔ دور کعت نماز پڑھی اس کے بعد بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ دعا کی: ”خدایا! جو کچھ تیرے نزدیک حق ہے، اس کو مجھ پر واضح کردے، میں پناہ مانگتا ہوں کہ اپنی عقل کے پیچھے بھٹکتا رہوں، یقیناً ایک روز ایسا آنے والا ہے، جب تیرے فرشتے، ایسے فرشتے جن کو میں لوٹا نہیں سکتا، میرے پاس آئیں گے اور مجھ کو پکڑ کر تیرے پاس حاضر کر دیں گے، خدایا اس روز تو مجھ سے جو کچھ چاہے گا وہ مجھ کو آج ہی بتا دے، پردہ اٹھنے کے بعد میں جو کچھ دیکھوں گاوہ آج ہی مجھے دکھا دے۔“ میں نے عہد کیا تھا کہ جب صدرالدین صاحب کا تبصرہ مجھے ملے گا تو پہلے میں دور کعت نماز پڑھ کر خدا سے دعا کروں گا، اور پھر اس کا مطالعہ کروں گا۔ چنانچہ اس عہد پر عمل کر لینے کے بعد اب میں نے اصل تحریر پر کرنی شروع کی، اور اس کو پہلی فرصت میں ختم کردالا۔ اس کے بعد اس کو بار بار پڑھا۔ اس پر نوٹ تیار کیے، اس میں جو حوالے تھے ان کو نکال کر دیکھا یہاں تک کہ تحریر ملنے کے چوتھے دن یعنی 12 اگست کو میرے ذہن نے فیصلہ کردیا کہ یہ تحریر نہایت ناقص ہے، اپنے خیالات پر میرا یقین بڑھ گیا۔ اور میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس تبصرہ کے ذریعہ اس نے میرے ذہن کی مزید صفائی اور میرے خیالات کی مزید وضاحت کا انتظام فرمایا ہے۔ اس کے بعد 10 اگست کو بذریعہ خط میں نے امیر جماعت کو مطلع کیا کہ مولانا صدر الدین صاحب کے جواب سے میرے اصل نقطۂ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اس کے جواب میں ان کا خط مورخہ 13 اگست 1962ء ملا جو امیر جماعت کی خط و کتابت میں شامل ہے، اس خط کے مطابق میں نے مولانا صدر الدین صاحب کی تحریر کے بارے میں اپنے خیالات کا ایک خلاصہ امیر جماعت کے پاس بھیج دیا، یہ تبصرہ امیر جماعت کی وساطت سے مولانا صدرالدین صاحب کے علم میں بھی آچکا تھا۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے جواب کی صحت پر مصر تھے اور میری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader