Urdu book · تعبیر کی غلطی

تصورِ دین

Urdu book, p. 374

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوں جہاں وہ اس کے آگے روئے اور گڑگڑائے۔ جہاں وہ بے تابانہ اس سے چمٹ جائے۔ جہاں وہ اس احساس سے دوچار ہو کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ اس طرح دنیا کی زندگی میں خدا کو پانا یہی دین کی اعلیٰ ترین حقیقت ہے، اور سارے احکام و آداب کا مقصود بندے کو اس مقام تک پہنچانا ہے۔ جس نے اس طرح دنیا میں اپنے رب کو پا لیا وہی آخرت میں اپنے رب کو پائے گا، اور جو دنیا میں اس یافت سے محروم رہ گیا وہ آخرت میں بھی لقائے رب کی نعمت سے محروم رہے گا۔ یہاں یہ غلط فہمی نہ ہو کہ میں بعض مخصوص مدارس فکر کے اس نظریہ کی تائید کر رہا ہوں کہ دنیا میں انسان کا کمال یہ ہے کہ وہ خدا میں مل جائے یا اس کا عینی دیدار حاصل کرلے۔ حتیٰ کہ بعض بزرگوں نے تو معراج کے واقعہ کو آئیڈیل قرار دیا ہے۔ جہاں پہنچنے کی ہمیں جدوجہد کرنی ہے۔ یہ لوگ دراصل ایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ وہ خدا سے قربت کے معاملہ کو ایک حقیقی معاملہ سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ وہ صرف ایک روحانی یا حسیاتی معاملہ ہے۔ خدا سے حقیقی قربت، جس حد تک ایک بندے کے لیے ممکن ہے، وہ تو صرف آخرت ہی میں ہوگی۔ مگر یہ قربت انھیں سعادت مند اشخاص کو ملے گی جو دنیا میں اس کیفیت سے آشنا ہو چکے ہوں۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ دنیا میں جو قربت ملتی ہے۔ وہ ایک حسیاتی قربت ہے اور آخرت کی قربت ایک حقیقی قربت۔ اس اعتبار سے اہل ایمان کے دینی مطلوب کی تشریح ان الفاظ میں کرنا درست نہیں ہے کہ ؂ ”ہمارا مقصد دنیا میں نظام حق قائم کرنا ہے۔“ یہ بات اپنے اندر صداقت کا جز ء رکھنے کے باوجود اپنی تشریح کے اعتبار سے غلط ہے۔ کیوں کہ اس تشریح کے مطابق ایک خارجی ادراک دین کی آخری حقیقت قرار پاتا ہے۔ جب کہ دین کی آخری حقیقت ایک باطنی ادراک ہے۔ دنیا کی زندگی میں ہمیں جس آخری مقام تک پہنچنا ہے، وہ یہ ہے کہ ہم خدا کو اپنے حقیقی الٰہ اور معبود کی حیثیت سے پالیں، ہم اس سے حسیاتی طور پر جڑ گئے ہوں۔ نہ یہ کہ ہم کوئی سماجی ڈھانچہ کھڑا کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page