Urdu book · تعبیر کی غلطی

تصورِ دین

Urdu book, p. 373

By Maulana Wahiduddin Khan

احکام الہی کی تعمیل کرتا ہے تو وہ دوسروں کے اوپر اپنی عابدانہ حیثیت کے تقاضے پورا کر رہا ہوتا ہے۔ تعمیل کے پہلو سے یہ تقاضے بھی اسی طرح لازم ہیں، جس طرح مخصوص عبادتی افعال ۔ البتہ دونوں میں نوعیت کا جو فرق ہے اس کو سامنے رکھنا ضروری ہے ۔ ورنہ دین کا صحیح تصور ذہنوں میں قائم نہیں رہ سکتا۔ کیوں کہ تقاضے ہمیشہ کسی دوسری چیز کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں۔ جب کہ اصل حقیقت مطلقاً مطلوب ہوتی ہے ۔ مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ ”مسلمان ہونے کا تقاضا ہے کہ آدمی وراثت کو بالکل خدا کے قانون کے مطابق تقسیم کرے ،“ تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ہر آدمی لازماً اس بات کی کوشش کرے کہ اس کے پاس ترکہ میں کچھ جائیداد آئے، تا کہ اس کو حقداروں کے درمیان ٹھیک ٹھیک تقسیم کر کے وہ حکم وراثت کی تعمیل کر سکے۔ بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کو ترکہ میں کوئی جائیداد یا سرمایہ ملے، تو اس وقت اس کے ایمان و اسلام کا تقاضا ہے کہ وہ احکام وراثت کے مطابق اس میں ٹھیک ٹھیک تصرف کرے ۔ یہ ایک ایسا فریضہ ہے، جو حصول جائیداد کی نسبت سے مطلوب ہوتا ہے، نہ کہ وہ علی الاطلاق ہر شخص کے اوپر عائد ہے۔ عبادت کی اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خدا سے محبت اور خوف کا تعلق عملی زندگی کے محض ایک ” محرک “ کی حیثیت نہیں رکھتا، بلکہ وہی اصل مطلوب ہے جس کو اس دنیا میں ہمیں پانا ہے۔ سارے اعمال و افعال کا حاصل یہی ہے کہ وہ ہمارے لیے اس حسیا تی دولت کو پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں، جس کو علما دین نے وصول الی اللہ اور تعلق باللہ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ہمارے اور خدا کے درمیان صرف ایک خارجی قسم کے ذہنی مفروضہ کا تعلق نہیں ہے ( کہ ہم فلاں عمل کو دہرائیں تو خدا آسمان پر ہم سے خوش ہو جائے گا)، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ہمارے اور اس کے درمیان ایک براہ راست تعلق بھی ہے ۔ بندہ کا رویہ اپنی ظاہری شکل میں حکم کی تعمیل ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ دراصل اپنے آپ کو اس مقام پر لے جانا ہے، جہاں بندہ خدا سے ملاقات کر سکے ۔ جہاں اپنے رب سے اس کی سرگوشیاں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page