تصورِ دین
Urdu book, p. 376
By Maulana Wahiduddin Khan
عبادت کے تقاضے انسان سے اللہ تعالیٰ کو اولا و اصلاً جو چیز مطلوب ہے، وہ یہی ہے کہ انسان اس کے آگے عاجزی اختیار کرے ۔ اور اسی کا نام عبادت ہے۔ مگر آدمی کو خلا میں پیدا کیا گیا ہے۔ بلکہ اسے واقعات سے بھری ہوئی ایک دنیا میں رکھا گیا ہے۔ اس لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ ان تمام پہلوؤں میں بھی عابد کی حیثیت عبودیت کا اظہار ہو، جو مادی دنیا کی نسبت سے اسے حاصل ہیں، اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ 1۔ ایک وہ پہلو ہے جو خارجی حالات سے سامنے آتا ہے۔ ہر بار جب زندگی کی سرگرمیوں میں اس کے سامنے کوئی ایسا معاملہ آتا ہے۔ جس میں اس کے لیے دوراہیں اختیار کرنا ممکن ہو، ایک خدا کی اور دوسرے نفس اور دوسرے معبودان باطل کی ، اس وقت اس کا جذبہ عبودیت اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ دوسری راہوں کو چھوڑ کر اپنے رب کی بتائی ہوئی راہ کو اپنے لیے پسند کرلے۔ جس خدا کے آگے وہ حسیاتی طور پر جھکا ہوا ہے، اپنے عملی وجود کو بھی اسی کے آگے جھکا دے۔ یہ عبادت کا وہ مظہر ہے، جو حالات کی نسبت سے ظاہر ہوتا ہے اور اس کا دوسرا نام ”اطاعت“ ہے ۔ اس اطاعت کے مقامات گھر، دفتر، بازار، پارلیمنٹ اور وہ تمام جگہیں ہیں، جن سے انسان کو دنیا کی زندگی میں سابقہ پیش آئے۔ 2۔ دوسرا پہلو وہ ہے جو عام بندگان خدا کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے۔ اس زمین پر بسنے والے وہ تمام لوگ جو اپنے رب سے غافل ہیں، اور اس غفلت کی وجہ سے جہنم کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ ان کی یہ نازک پوزیشن مجبور کرتی ہے کہ بندہ مومن انھیں بھی عبادت کے اس راستہ پر لانے کی کوشش کرے، جس کو اس نے خود اختیار کیا ہے۔ یہ عبادت کا وہ مظہر ہے، جو انسانوں کی نسبت سے ظاہر ہوتا ہے، اور اس کا دوسرا نام شہادت یا تبلیغ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader